قصہ ثعلبہ کی حقیقت
ایک علمی و تحقیقی کتابچہ
مصنف: بشیر احمد حسیم رحمہ اللہ
فہرست

دیباچہ

الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین، اما بعد!

میرے والدِ گرامی، فضیلۃ الشیخ بشیر احمد حسیم ؒ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی نشر و اشاعت اور احیاءِ سنت کے لیے وقف تھی۔ ان کا یہ مشن تھا کہ وہ خالص علمی و تحقیقی موضوعات پر کتابیں تصنیف کرتے اور انہیں فی سبیل اللہ (مفت) تقسیم کیا کرتے تھے تاکہ حق کا پیغام ہر خاص و عام تک پہنچ سکے۔ ان کی وفاتِ کے بعد کچھ عرصہ تو یہ علمی سلسلہ منقطع رہا، لیکن اب اللہ تعالیٰ کی توفیق اور فضلِ خاص سے ہم نے ان کے اس ادھورے مشن کو دوبارہ زندہ کرنے کا عزم کیا ہے۔ اسی سلسلے میں والد صاحب ؒ کی تمام علمی نگارشات، کتب اور فلاحی کاموں کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے haseem.org ویب سائٹ لانچ کر دی گئی ہے، تاکہ یہ علمی صدقہ جاریہ رہتی دنیا تک جاری رہے۔

زیرِ نظر کتابچہ "قصہ ثعلبہ کی حقیقت" اسی تحقیقی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ ایک نہایت اہم موضوع ہے کیونکہ عوام الناس میں حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری ؓ (جو کہ ایک بدری صحابی ہیں) کے متعلق یہ قصہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ وہ کثرتِ مال کی دعا کروا کر زکوٰۃ سے انکاری اور معاذ اللہ مرتد ہو گئے تھے۔ والد صاحب ؒ نے اس کتابچے میں علمی و اسنادی دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ قصہ سراسر جھوٹا، من گھڑت اور وضعی ہے۔ اس تحقیق کا مقصد ایک جلیل القدر بدری صحابی ؓ کے دامن پر لگے اس جھوٹے داغ کو دھونا ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کی رو سے تمام بدری صحابہ ؓ جنتی اور مغفور لہم ہیں۔

امید ہے کہ یہ علمی کاوش قارئین کے لیے بصیرت کا باعث بنے گی اور ہمیں صحابہ کرام ؓ کی عظمت کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے گی۔

ابن حسیم عبدالقہار محسن

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى أما بعد فقد قال الله تعالى في التنزيل:

وَلَا تَقۡفُ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌ ۚ إِنَّ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡبَصَرَ وَٱلۡفُؤَادَ كُلُّ أُوْلَـٰٓئِكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡـُٔولًا

(سورہ بنی اسرائیل، آیت 36)

اے انسان جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے مت چل بے شک کان، آنکھ اور دل ان سب کے متعلق سوال کیا جائے گا۔

برادران اسلام!

حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری بدری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق جو قصہ مشہور ہے کہ اس نے نبی کریم سے کثرتِ مال کی دعا کروائی، پھر زکوٰۃ سے انکاری ہو گیا اور اللہ اور رسول سے راندہ گیا اور ہمیشہ کے لئے عذاب کا مستحق ہو گیا۔

میں اس کی حقیقت آپ کے سامنے واضح کرنا چاہتا ہوں تاکہ جنتی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب جھوٹ بیان کرنے کے جرم میں آپ عذاب کے مستحق نہ ہو جائیں اور جو جھوٹ بیان کر چکے ہیں اس سے رجوع کر لیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں۔

میں نے بھی اسے معالم التنزیل، ابن کثیر اور تفسیر محمدی وغیرہ جیسی کتب تفاسیر سے پڑھ کر اپنے پنجابی رسالہ گلشن توحید میں بیان کیا تھا کیونکہ اس وقت میں ابھی پڑھ کر آیا ہی تھا، مجھے اس کی تحقیق نہیں تھی لیکن تحقیق کرنے کے بعد میں اس کا رد کرتا ہوں اور گزشتہ بیان سے رجوع کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ یہ قصہ بالکل جھوٹا ہے۔

قصہ ثعلبہ کا متن

اس میں جنتی بدری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف جھوٹ منسوب ہے وہ قصہ ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ سے عرض کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے مال عطا کرے تو رسول اللہ نے فرمایا:

ثعلبہ تجھ پر افسوس اور تعجب ہے! وہ تھوڑا مال جس کا تو شکر ادا کرے اس زیادہ مال سے بہتر ہے جس کا شکر ادا کرنے کی تجھ میں طاقت نہ ہو، پھر اس نے دوسری مرتبہ اپیل کی تو آپ نے فرمایا تو اس پر راضی نہیں کہ اللہ کے نبی کی طرح ہو (یعنی دنیا میں مسافرانہ زندگی بسر کرنے والا) پھر اس نے کہا مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اگر آپ اللہ سے دعا کریں اور اللہ مجھے مال دے دے تو میں یقیناً ہر حق والے کو اس کا حق دوں گا۔ تو رسول اللہ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ثعلبہ کو مال دے دے تو پھر ثعلبہ نے بکریاں خریدیں جو کیڑوں کی طرح تیزی سے بڑھنے لگیں کہ مدینہ منورہ میں ان کا سمانا مشکل ہو گیا، پھر وہ ان کو ایک وادی میں لے گیا اور اس کی نمازیں جماعت کے ساتھ صرف ظہر اور عصر رہ گئیں، پھر جب مال اور بڑھ گیا تو جماعت کے ساتھ صرف اس کا جمعہ رہ گیا، پھر مال اور زیادہ ہو گیا تو جمعہ پڑھنا بھی چھوڑ دیا حتیٰ کہ جمعہ کے دن آنے جانے والے لوگوں سے حالات معلوم کرتا تو رسول اللہ نے فرمایا ثعلبہ کو کیا ہوا؟

تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا یا رسول اللہ اس نے بکریاں خریدیں جو بڑھتے بڑھتے اتنی زیادہ ہو گئیں کہ اس کے لئے مدینہ میں رہنا دشوار ہو گیا اور وہ ان کو وادی میں لے گیا تو آپ نے تین دفعہ فرمایا ہائے ثعلبہ کی ہلاکت اور اللہ نے یہ آیت اتاری:

خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَةً الخ۔

ان کے مالوں کی ان سے زکوٰۃ وصول کرو۔

تو یوں زکوٰۃ کی فرضیت اتار دی گئی۔ تو رسول اللہ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے دو آدمیوں کو بھیجا ایک آدمی جہینہ قبیلہ سے اور ایک آدمی بنو سلیم قبیلہ سے اور مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کرنے کے تفصیلی احکام ان کو لکھ کر دیئے اور ان دونوں سے کہا کہ تم ثعلبہ کے پاس جاؤ پھر بنو سلیم کے فلاں آدمی کے پاس اور ان دونوں سے زکوٰۃ وصول کر کے لاؤ۔

وہ دونوں پہلے ثعلبہ کے پاس گئے اور اس سے زکوٰۃ کا مطالبہ کیا اور اسے رسول اللہ کا خط پڑھ کر سنایا تو اس نے کہا یہ تو جزیہ ہے یہ تو جزیہ جیسا ٹیکس ہے میں نہیں جانتا یہ کیا ہے؟ جاؤ دوسروں سے وصول کر کے پھر فارغ ہو کر میرے پاس آنا پس وہ دونوں چلے گئے اور دونوں کے متعلق سلمی مرو نے سنا تو اپنا بہترین اونٹوں کا مال زکوٰۃ میں دینے کے لئے علیحدہ کر دیا پھر جب آئے تو علیحدہ کردہ اونٹوں کو زکوٰۃ کے لیے پیش کر دیا۔ جب انہوں نے ان بہترین اونٹوں کو دیکھا تو کہا یہ تجھ پر واجب نہیں ہم نہیں چاہتے کہ تجھ سے تیرا ایسا عمدہ مال زکوٰۃ میں وصول کریں اس نے کہا کیوں نہیں یہ میرا مال ہے میں اپنے دل کی خوشی سے دے رہا ہوں۔ لہذا آپ اسے قبول کر لیں، تو پھر انہوں نے اس سے یہ عمدہ اونٹ قبول کر لیے جب وہ سب سے زکوٰۃ وصول کر کے فارغ ہوئے تو جاتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے تو اس نے کہا اپنا خط مجھے دکھاؤ تو اس خط میں اس نے غور و فکر کرنے کے بعد کہا یہ تو جزیہ جیسا ٹیکس ہے تم جاؤ میں خود سوچوں گا۔

تو وہ ثعلبہ کے پاس سے چلے گئے حتیٰ کہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے پس جب آپ نے دونوں کو دیکھا ان دونوں کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے آپ نے فرمایا ہائے ہلاکت ہو ثعلبہ کے لیے۔ پھر آپ نے ثعلبہ اور سلمی کے کردار سے آگاہ کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس ثعلبہ کے بارے میں یہ تین آیات نازل کیں جن کا ترجمہ یہ ہے:

"بعض ان میں سے وہ ہے جس نے اللہ سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل (مال) سے دے تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ضرور نیکوں سے ہو جائیں گے۔ پس جب ان کو اس نے اپنے فضل سے دے دیا تو اس میں انہوں نے بخل کیا اور اعراض کرتے ہوئے پھر گئے۔ پس اس کے بدلے اس نے ان کے دلوں میں منافقت پیدا کر دی اس دن تک جس دن میں وہ اس سے ملاقات کریں گے یعنی موت تک یا قیامت تک، ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ خلافی کرنے کے سبب، اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب۔" (سورہ توبہ آیات 75 تا 77)

اور اس وقت رسول اللہ کے پاس ثعلبہ کے قریبی رشتہ داروں سے ایک آدمی تھا جس نے ان آیات کو سنا اور ثعلبہ کے پاس جا کر کہا اے ثعلبہ تو ہلاک ہو گیا اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں ایسے ایسے نازل فرمایا ہے تو پھر ثعلبہ نبی کے پاس آیا اور آپ سے گزارش کی کہ آپ میری زکوٰۃ قبول فرما لیں تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیری زکوٰۃ قبول کرنے سے مجھے منع کر دیا ہے تو ثعلبہ اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا تو رسول اللہ نے فرمایا یہ تیرے عمل کا ہی بدلہ ہے میں نے تجھے حکم دیا تھا لیکن تو نے میری اطاعت نہ کی پس جب رسول اللہ نے اس کی زکوٰۃ لینے سے انکار کر دیا تو وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ گیا حتیٰ کہ رسول اللہ فوت ہو گئے اور اس سے اس کی زکوٰۃ میں سے کچھ بھی قبول نہ کیا۔

پھر جب ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے تو ان کے پاس آیا اور کہا میرا مرتبہ رسول اللہ کے نزدیک اور انصار میں آپکو معلوم ہی ہے سو آپ میری زکوٰۃ قبول کر لیں تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جسے رسول اللہ نے قبول نہیں کیا اسے میں بھی قبول نہیں کروں گا۔ حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے اور اس سے زکوٰۃ قبول نہیں کی۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے تو ان کے پاس آ کر کہنے لگا اے امیر المؤمنین میری زکوٰۃ قبول کر لیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جس کو رسول اللہ نے قبول نہیں کیا اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبول نہیں کیا اس کو میں بھی تجھ سے قبول نہیں کروں گا۔ حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہو گئے اور اس سے زکوٰۃ قبول نہ کی۔

پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے تو ان کے پاس آ کر کہا میری زکوٰۃ قبول کر لو تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جسے رسول اللہ نے قبول نہیں کیا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبول نہیں کیا، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبول نہیں کیا میں بھی تجھ سے قبول نہیں کرتا پس انہوں نے بھی اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ ثعلبہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں فوت ہو گیا۔

ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس قصہ کو ابن جریر طبری، ابن کثیر، حسین بن مسعود بغوی، قرطبی اور دیگر مفسرین نے اپنی کتب تفسیر میں سورہ توبہ کی آیات نمبر 75 تا 77 کے تحت ذکر کیا ہے اسی طرح ابن اثیر نے اسد الغابہ ج 1 ص 237، 238 پر اور ابن عبدالبر نے استیعاب میں اور امام شوکانی نے فتح القدیر ج 2 میں اور السیل الجرار ج 2 کتاب الزکوٰۃ میں ذکر کیا ہے۔ لیکن یہ قصہ بالکل جھوٹا ہے اس کے جھوٹا ہونے کی دو وجوہات ہیں جو کہ درج ذیل دلائل سے واضح ہیں۔

دلیل نمبر 1: سند کے لحاظ سے

سند کے لحاظ سے یہ قصہ جھوٹا ہے کیونکہ اس کی سند میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ابو عبد الرحمن قاسم بن عبد الرحمن سے بیان کرنے والا علی بن یزید بن ابی ہلال ابو عبد الملک یا ابو الحسن ہلالی یا الہانی دمشقی کے متعلق محدثین کے فیصلے سنیئے:

امام احمد، امام ترمذی، امام حسین بن علی اسے ضعیف کہتے ہیں۔

امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ علی بن یزید جو قاسم بن عبد الرحمن سے وہ ابو امامہ باہلی سے روایت کرتے ہیں وہ روایات سب کی سب ضعیف ہیں۔

امام یعقوب بن سفیان کہتے ہیں کہ علی بن یزید کمزور حدیث والا اور زیادہ منکرات احادیث والا ہے۔

امام یحییٰ بن معین اس کی تمام احادیث کو ضعیف کہتے ہیں۔

امام ابراہیم بن یعقوب بن اسحاق جوزجانی فرماتے ہیں کہ اکثر محدثین اس کی احادیث کا انکار کرتے ہیں امام ابو زرعہ رازی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے امام ابو حاتم اسے ضعیف الحدیث کہتے ہیں نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی احادیث منکرہ ہیں۔ امام بخاری اسے ضعیف اور منکر الحدیث کہتے ہیں۔

امام نسائی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ متروک ہے۔ امام حاکم اسے ذاہب الحدیث کہتے ہیں امام زکریا بن یحییٰ ساجی فرماتے ہیں کہ تمام اہل علم محدثین کا اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔

تہذیب الکمال ج 21 ص 178 تا 183، تہذیب التہذیب ج 7 ص 336-337، میزان الاعتدال ج 3 ص 161، کتاب الجرح والتعدیل للامام ابن ابی حاتم الرازی ج 6 ص 209، کتاب الضعفاء الکبیر ج 3 ص 254 للامام عقیلی۔

قصہ مختصر کسی محدث نے بھی اس کی توثیق نہیں کی بلکہ سب نے اس کی تضعیف کی ہے۔

امام بخاری فرماتے ہیں کہ جس راوی کے متعلق میں لفظ منکر الحدیث استعمال کروں تو اس سے روایت کرنا حلال اور جائز نہیں۔

میزان ج 1 ص 6، لسان المیزان ج 1 ص 20۔ ترجمہ ابان بن جبلہ کوفی ابی عبدالرحمن۔

لہذا یہ روایت سنداً جھوٹی ثابت ہوئی کیونکہ ایسے مجروح راوی کی روایت بالکل جھوٹی، سب سے ردی اور مردود ہوتی ہے۔

مقدمہ میزان اور شرح نخبہ وغیرہ۔

علاوہ ازیں اس کی سند میں ابن جریر طبری کا استاد مُعَنَّى بن ابراہیم آملی مجہول ہے کتب رجال سے اس کا سراغ نہیں ملتا کہ وہ کون اور کیسا ہے اور مجہول راوی کی روایت بھی مردود ہوتی ہے لہذا اس مُعَنَّى کے مجہول ہونے کے سبب بھی یہ روایت جھوٹی اور مردود بنتی ہے۔

علاوہ ازیں اس میں اور راوی بھی مجروح ہیں مثلاً ہشام بن عمار، معاذ بن رفاعہ یا معان بن رفاعہ متکلم فیہ اور مختلف فیہ ہیں۔

تہذیب التہذیب ج 11 ص 51 تا 54 و میزان الاعتدال ج 4 ص 134، 302، 303، 304 و تہذیب التہذیب ج 10 ص 190، 201، 202

اور قاسم بن عبدالرحمان شامی ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے والا بھی مختلف فیہ ہے۔

تہذیب التہذیب ج 8 ص 322، 323، 324 و میزان الاعتدال ج 3 ص 372، 373، 374

تنبیہ: علی بن زید بن جدعان

باوردی، ابن السکن، ابن شاہین وغیرہما کے حوالہ سے امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ ج 1 ص 198 پر اس کی سند میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے شاگرد قاسم بن عبدالرحمان سے بیان کرنے والا علی بن زید لکھا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ ابن جریر اور ابن کثیر نے علی بن یزید ہی لکھا ہے اور ذہبی نے بھی میزان ج 3 ص 374 پر علی بن زید ہی لکھا ہے اور یہی صحیح ہے۔

اگر بالفرض علی بن زید بن جدعان بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ علی بن زید بن جدعان بھی غالی شیعہ ضعیف ترین اور کذاب وضاع، حدیثیں تبدیل کرنے والا اور متروک الحدیث تھا لہذا تب بھی یہ حدیث سنداً جھوٹی ثابت ہوتی ہے۔

تہذیب التہذیب ج 7 ص 322 تا 324 و میزان الاعتدال ج 3 ص 127 تا 129

تنبیہ: ابن عباس کی روایت اور احسن التفاسیر

امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ ج 1 ص 198 پر ابن مردویہ کی تفسیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ قصہ عطیہ نے عبداللہ بن عباس سے اس آدمی کے متعلق بیان کیا ہے جس کو ثعلبہ بن ابی حاطب انصاری کہا جاتا تھا یہ بھی درست نہیں کیونکہ تمام مفسرین اور مؤرخین نے یہ قصہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ہی بیان کیا ہے۔

بالفرض اگر اسے ثعلبہ بن ابی حاطب انصاری کے متعلق ہی تسلیم کر لیا جائے جس طرح ابن مردویہ کے حوالہ سے حافظ ابن حجر نے لکھا ہے تب بھی یہ قصہ جھوٹا ہے کیونکہ اس قصے کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بیان کرنے والا جو عطیہ بن سعد بن جنادہ عوفی، جدلی، قیسی، کوفی ابوالحسن ہے وہ سخت ترین ضعیف شیعہ تھا۔

ابو نضر محمد بن سائب کلبی رافضی سبائی اور عمارہ بن جوین ابو ہارون عبدی اور بشر بن حرب ازدی ندبی ابو عمر بصری کذابین جیسا کذاب تھا۔ محمد بن سائب کلبی کذاب کی کنیت ابو سعید رکھ کر اس سے بیان کرتا تھا تا کہ لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے تاکہ لوگ ابو سعید سے ابو سعید خدری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول سمجھیں۔

تہذیب التہذیب ج 1 ص 222 تا 226 اور میزان الاعتدال ج 3 ص 79، 80

کلبی کے ترجمہ کے لیے دیکھیں: تہذیب ج 9 ص 178 تا 181 اور میزان ج 3 ص 556 تا 559

عمارہ بن جوین ابو ہارون عبدی کا ترجمہ کے لیے دیکھیں: میزان ج 3 ص 173، 174 اور تہذیب ج 7 ص 412 تا 414

بشر بن حرب ازدی کے ترجمہ کے لیے دیکھیں: تہذیب ج 1 ص 446، 447 اور میزان ج 1 ص 313، 315۔

لہذا عطیہ عوفی کی وجہ سے یہ قصہ بھی جھوٹا ثابت ہوا۔ نیز عوفی سے پہلے والی سند امام ابن حجر نے عوفی تک ذکر بھی نہیں کی، لہذا منقطع ہونے کی وجہ سے بھی یہ روایت مردود بنتی ہے۔

تنبیہ: مولوی حضرات کا اعتراض (ایک اور ثعلبہ)

بعض مولوی حضرات کہتے ہیں کہ یہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ثعلبہ تھا اور وہ ثعلبہ جس کے متعلق یہ قصہ مشہور ہے وہ اور ثعلبہ تھا اور وہ منافق تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حاطب انصاری کے علاوہ اس نام کے تیس صحابہ سے کچھ اوپر امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ ج 1 ص 198 تا 202 میں ذکر کئے ہیں جو سب مخلص تھے ان میں کوئی بھی منافق نہیں تھا اور نہ ہی یہ قصہ کسی اور ثعلبہ کے متعلق مذکور ہے بلکہ اسی ثعلبہ بن حاطب انصاری بدری صحابی کے متعلق ہی مذکور ہے سب نے اسی کے متعلق ذکر کیا ہے البتہ ابن مردویہ کے حوالہ سے ابن حجر نے ثعلبہ بن ابی حاطب کا ذکر کیا ہے جس کا جھوٹ بھی واضح کر دیا گیا یعنی عطیہ عوفی کے واسطے سے جو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔

دلیل نمبر 2: بدری صحابی ہونے کی وجہ سے

یہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدری صحابی ہیں جو کہ جنگ بدر میں کفر کے خلاف لڑنے والے ہیں، جبکہ جنگ بدر میں شریک ہونے والے تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان صحیح بخاری میں اس طرح مذکور ہے:

اعملوا ما شئتم فقد وجبت لکم الجنة أو فقد غفرت لکم۔

جب حاطب بن ابی بلتعہ سے رسول اللہ اور مسلمانوں کی جاسوسی کرنے کا گناہ سرزد ہو گیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی گردن اڑانے کی آپ سے اجازت مانگی تو رسول اللہ نے فرمایا یہ بدری صحابی ہیں اور بدریوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے بدریو جو چاہو تم عمل کرو تمہارے لئے جنت واجب ہو گئی۔ یا فرمایا میں نے یقیناً تم کو بخش دیا۔

صحیح بخاری ج 2 ص 567، باب فضل من شهد بدرا، نیز ج 2 ص 726 زیر تفسیر سورہ ممتحنہ کتاب التفسیر۔

جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدریوں کے تمام گناہ معاف ہو چکے اور ان کے لئے جنت واجب ہو چکی تو ثعلبہ کا جرم کیسے معاف نہیں ہو سکتا تھا۔ (فرض محال اگر ہوتا) جو کہ بدری صحابی ہیں۔ ان کے بدری ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ امام ابن اثیر کی کتاب اسد الغابہ فی معرفة الصحابة ج 1 ص 237 پر شہد بدراً یعنی وہ جنگ بدر میں شریک ہوے تھے لکھا ہے اور ابن کثیر کی کتاب السیرة النبویة ج 2 ص 492 پر اسماء أهل بدر یعنی بدریوں کی لسٹ میں ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شمار کیا ہے۔ اسی طرح سیرت ابن ہشام میں ان کو بدریوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اسی طرح ابو عمر یوسف بن عبدالبر مشہور ابن عبدالبر نے اپنی کتاب الاستیعاب فی اسماء الاصحاب جو ابن حجر کی اصابہ کے حاشیہ پر مطبوع ہے اس کے ص 220 ج 1 میں مذکور ہے کہ وہ جنگ بدر اور جنگ احد میں شریک تھے اسی طرح امام احمد بن علی بن حجر عسقلانی مشہور ابن حجر نے اپنی کتاب الاصابہ فی تمیز الصحابة ج 1 ص 198 پر ان کو بدری صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں شمار کیا ہے اور اس جھوٹے قصے کا رد بھی کیا ہے۔ اسی طرح امام قرطبی نے اپنی تفسیر ج 8 ص 210 سورہ توبہ میں لکھا ہے:

ثعلبة بدري انصاري و ممن شهد الله له ورسوله بالإيمان فما روي عنه غير صحيح۔

یعنی ثعلبہ بدری انصاری صحابی ہیں اور ان لوگوں سے ہیں جن کے ایمان کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شہادت دی ہے اور جو قصہ ان کے متعلق مشہور ہے وہ صحیح نہیں ہے۔

دلیل نمبر 3: آیت انفال کی رو سے

اللہ تعالیٰ نے تمام مہاجرین اور انصار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ایمان کی شہادت اور ان کے لئے مغفرت اور اچھے رزق کی بشارت دی ہے۔ جیسا کہ سورہ انفال میں مذکور ہے:

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ

(آیت 74، سورہ انفال)

ترجمہ: اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی لوگ حقیقی مومن ہیں ان کے لئے مغفرت اور اچھا رزق ہے۔

اس آیت کی رو سے بھی یہ قصہ جھوٹا ثابت ہوا کیونکہ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکا سچا مومن اور جنتی بتاتی ہے اور یہ قصہ اسے کافر، بے دین، مرتد اور جہنمی بتاتا ہے۔

دلیل نمبر 4: قبولیت توبہ کا دروازہ

اللہ تعالیٰ نے سورہ فرقان کے آخری رکوع میں مشرک، قاتل اور زانی تین قسم کے مجرموں کی سزا بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے:

إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا - 70

ترجمہ: مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کئے تو ان لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں میں تبدیل کر دے گا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس آیت سے بھی یہ قصہ جھوٹا ثابت ہوا کیونکہ یہ آیت ہر مجرم کے لئے توبہ کی قبولیت کا دروازہ کھولتی ہے بلکہ تمام گناہوں کو توبہ کرنے کے سبب نیکیوں میں تبدیل کرواتی ہے اور یہ قصہ ثعلبہ کے لئے اس کی توبہ کی قبولیت کا دروازہ بند کروا کر اسے جہنمی بناتا ہے۔

اسی طرح صحاح ستہ و دیگر کتب حدیث میں احادیث رسول مذکور ہیں جو ہر مجرم کے لئے قبولیت توبہ اور سب گناہوں کی معافی کا دروازہ کھولتی ہیں۔ اور یہ قصہ ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبولیت توبہ کا دروازہ بند کرتا ہے۔ لہذا یہ قصہ جھوٹا ہے۔

دلیل نمبر 5: کثرت مال کی دعا

اس قصہ میں کثرت مال کی طلب اور اس کی دعا کی مذمت مذکور ہے۔ جب کہ شریعت محمدیہ میں اس کا ثبوت موجود ہے جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ کی خدمت اقدس میں گزارش کی کہ اے اللہ کے رسول اپنے خادم میرے بیٹے انس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں تو آپ نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی:

اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته۔

ترجمہ: اے اللہ اسے مال اور اولاد زیادہ عطاء کر اور جو کچھ بھی تو اسے عطاء کرے اس میں برکت ڈال۔

صحیح بخاری ج 2 ص 938، 939، 943۔ کتاب الدعوات۔ ط۔ مکتبہ رشیدیہ دہلی، صحیح مسلم ج 2 ص 298، باب فضائل انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک۔ کتاب الفضائل۔ ط۔ اصح المطابع۔

اس کے علاوہ بھی قرآن و حدیث میں دنیاوی اخروی ہر بھلائی کی دعا کرنا مذکور ہے جو قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے والوں سے مخفی نہیں۔ عقل مندوں کے لئے اتنے دلائل ہی کافی ہیں۔

تنبیہ: ابن کثیر اور شوکانی پر

مجھے ابن جریر طبری، بغوی، ابن اثیر، ابن عبدالبر اور دیگر مفسرین پر جو اس جھوٹے قصے کو بلا تردید بیان کرتے ہیں اتنا افسوس اور تعجب نہیں جتنا امام ابن کثیر اور امام شوکانی پر ہے۔ رحمہم اللہ رحمۃ واسعة اجمعین۔ وہ بھی یہاں مکھی پر مکھی مار گئے یعنی اپنی کتابوں میں اسے ذکر کر کے اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ حالانکہ یہ دونوں بزرگ اکثر اسناد پر کڑی نظر رکھتے ہیں لیکن اس کی سند پر کوئی جرح نہیں کی حالانکہ اس کی سند میں مذکورہ بالا راوی علی بن یزید سخت ترین مجروح ہے جس پر مفصل بحث گزر گئی ہے اسی طرح اس کی سند میں مُعَنَّى بن ابراہیم آملی طبری کا استاد مجہول ہے جو مذکور ہوا۔

بلکہ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے سورہ توبہ کی آیات نمبر 75، 76، 77 کی تفسیر کے تحت اس کو بیان کر کے لکھا ہے کہ اس کے لئے بہت سے شواہد ہیں لیکن ذکر ایک بھی نہیں کیا جو تحقیق کی جائے اسی طرح شوکانی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسے فتح القدیر ج 2 مذکورہ آیات کی تفسیر میں اور السیل الجرار ج 2 ص 71، 72 کتاب الزکوٰۃ میں اسے ذکر کر کے اس پر کوئی جرح نہیں کی اور اس کے محشی محمود بن ابراہیم زاید نے بھی اس پر کوئی گفتگو نہیں کی۔ حالانکہ وہ بھی اکثر سندوں پر بحث کرتے ہیں لیکن یہاں خاموشی اختیار کر گئے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ سوائے رسول اللہ کے ہر انسان سے غلطی اور خطا کا امکان ہے۔ صرف رسول اللہ ہی غلطی سے مبرا تھے کیونکہ آپ کے علم کی بنیاد وحی الٰہی پر تھی جس میں غلطی ممکن ہی نہیں۔

تنبیہ آخر: احسن التفاسیر کا جواب

علامہ سید احمد حسن اپنی کتاب احسن التفاسیر ج 2 ص 474 پر لکھتے ہیں کہ ابو امامہ باہلی والی حدیث کی سند میں علی بن یزید راوی ضعیف ہے لیکن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کی سند میں یہ راوی نہیں ہے اس واسطے یہ شانِ نزول صحیح ہے انتہیٰ۔

اب ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کی سند دیکھئے جو ابن جریر طبری نے بیان کی ہے وہ یہ ہے:

حدثني محمد بن سعد قال ثنى أبي قال ثنى عمي قال ثنى أبي عن أبيه عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یعنی ابو جعفر بن محمد بن جریر طبری کہتے ہیں مجھے محمد بن سعد نے بیان کیا وہ کہتے ہیں مجھے میرے باپ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں مجھے میرے چچا نے بیان کیا وہ کہتے ہیں مجھے میرے باپ نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں الخ۔

قارئین ذرا توجہ فرمائیں کہ یہ سند کس طرح مجہول راویوں سے پُر ہے۔

نمبر 1: محمد بن سعد کا باپ سعد مجہول ہے یعنی اس کا پتہ نہیں یہ کون اور کیسا ہے۔

نمبر 2: اس سعد کے باپ کا پتہ نہیں یہ کون اور کیسا ہے؟

نمبر 3: سعد کے باپ کے چچا کا کوئی علم نہیں کہ وہ کون اور کیسا ہے؟

نمبر 4: اس سعد کے چچا کے باپ کا کوئی علم نہیں کہ وہ کون اور کیسا ہے؟

نمبر 5: آگے اس کے باپ کا بھی کوئی علم نہیں جو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتا ہے کہ وہ کون اور کیسا ہے؟

یہ ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کی سند جسے علامہ احمد حسن رحمتہ اللہ علیہ صحیح فرما رہے ہیں حالانکہ جس روایت کی سند میں ایک راوی بھی مجہول ہو وہ غیر ثابت اور جھوٹی متصور ہوتی ہے جبکہ اس کی سند میں مسلسل پانچ راوی مجہول ہیں جن کی ذوات و صفات کا کوئی علم نہیں کہ وہ کون ہیں اور کیسے ہیں یعنی ثقہ ہیں یا ضعیف۔

تو کیا اب بھی اس قصہ کے جھوٹا ہونے میں کوئی شبہ باقی رہتا ہے، یعنی یہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی روایت بھی جھوٹی ہے نیز موقوف بھی ہے مرفوع نہیں یعنی اس کی نسبت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ہے رسول اللہ کی طرف نہیں۔ نسبت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ہے رسول اللہ کی طرف نہیں۔

تنبیہ: آیات سورہ توبہ کس کے بارے میں نازل ہوئیں

بعض مولوی حضرات کہتے ہیں کہ اگر یہ قصہ جھوٹا ہے تو پھر یہ سورہ توبہ کی آیات نمبر 75، 76، 77 کس کے بارے میں نازل ہوئی تھیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ سورہ توبہ کی 74 سے 77 تک یہ سب آیات کسی فردِ واحد (ایک انسان) کے بارے میں نازل نہیں ہوئیں بلکہ تمام منافقین کے بارے میں نازل ہوئی تھیں کیونکہ ان آیات میں جو حالات و صفات منافقین مذکور ہیں وہ سب جمع کے صیغوں (لفظوں) اور جمع کی ضمیروں کے ساتھ مذکور ہیں کوئی لفظ اور کوئی ضمیر مفرد کی نہیں جس سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ان آیات میں منافقین کی پوری قوم اور جماعت کا ذکر ہے نہ کہ کسی ایک انسان کا۔

یہ سب آیات بار بار تفکر و تدبر سے پڑھ لیجئے۔ حقیقت اسی طرح ہو گی جو گرامر نہیں جانتے وہ اہل علم سے سمجھ لیں۔

خاتمہ

تو محترم قارئین! یہ عظمت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا عقیدہ ہے جو اہل حدیث کا حقیقتاً جزو ایمان ہے باقی سب تو زبانی کلامی عظمت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مانتے ہیں لیکن اہل حدیث تو زبانی، اعتقادی ہر لحاظ سے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی عظمت، عدالت، تقویٰ، ایمان اور ان کے قطعی جنتی ہونے کو تسلیم کرنا اپنے ایمان کا ایک حصہ سمجھتے ہیں لہذا اہل حدیث کے لئے جائز نہیں کہ وہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے متعلق ایسے من گھڑت قصے بیان کریں اور انہیں صحیح سمجھیں کیونکہ اس کی سنگین سزا بھی مل سکتی ہے لہذا اس سے توبہ کر لینی چاہئے اور اپنی ضد، عصبیت اور انانیت خدا کے ڈر سے چھوڑ دینی چاہئے تاکہ جنتی بدری صحابی پر بہتان لگانے کے جرم کے سبب عنداللہ سزا نہ ملے۔

وما علينا إلا البلاغ المبين والهدایة بید الله المتین۔