بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰیؕ اَمَّا بَعْدُ۔
برادرانِ اسلام جس طرح اہلِ بدعت نے مکمل دینِ اسلام میں جو کہ قرآن و حدیث کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ دیگر بے شمار بدعات جاری کی ہیں جن کا قرآن و حدیث میں نام و نشان تک نہیں ملتا اور انہیں بدعتی لوگ دین سمجھ کر اپنا رہے ہیں اور بڑی دھوم دھام سے اعلان کرتے ہوئے ان کو ثواب سمجھ کر کرتے کرواتے ہیں جیسے میت کے ایصالِ ثواب کے لئے تیسرے دن قل خوانی یا قرآن خوانی اور تین دن تک گھروں میں بیٹھ کر رسمی دعا اور فاتحہ خوانی اور میت کو قبرستان کی طرف لے جاتے ہوئے کلمہ شہادت کی رٹ لگانا وغیرہما۔ اسی طرح رمضان المبارک میں نمازِ تسبیح کو جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں، مرد بھی اور عورتیں بھی، تو اس بدعت کے ارتکاب سے ثواب کی بجائے عذاب حاصل کرتے ہیں۔ اس نماز کی جماعت کو میں نے بدعت اس لئے کہا ہے کہ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا یعنی رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے۔ بلکہ کسی صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا، اور جس چیز کو دین اور ثواب سمجھ کر اپنایا جائے اور اس کا دینِ اسلام میں کوئی ثبوت نہ ملے اسی کا نام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے۔
جس کا ذکر اس خطبہ مسنونہ میں ہے جسے ہر مولوی اور خطیب خطبہ جمعہ میں پڑھتا ہے جو صحیح مسلم، سنن ابنِ ماجہ، جامع ترمذی، مسند احمد اور دیگر کتبِ حدیث میں مذکور ہے۔ جو مولوی اس کی جماعت کرواتا ہے یا جواز کا فتویٰ دیتا ہے وہ یقیناً بدعتی ہے اور اِحداث فی الدین کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں بلکہ مردود ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں ہے:
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی شخص ہمارے اس دین میں وہ چیز پیدا کرے جس کا وجود و ثبوت اس دین میں نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ مسلم کی ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
ترجمہ: جو کوئی شخص ایسا کام کرے جس کے متعلق ہمارا حکم نہ ہو تو وہ مردود ہے یعنی فعل اور فاعل دونوں۔ جس طرح اس کی جماعت بدعت ہے اسی طرح اسے صرف رمضان میں ہر جمعہ کے روز پڑھنا یعنی چار یا پانچ دفعہ صرف ایک ماہ میں پڑھنا اور باقی گیارہ مہینوں میں نہ پڑھنا بھی بدعت ہے کیونکہ یہ ان روایات کے خلاف ہے جن سے اس کی دلیل پکڑی جاتی ہے۔ اس لئے کہ ان میں یا ہر روز ایک دفعہ یا ہفتہ میں ایک دفعہ یا مہینہ میں ایک دفعہ یا سال میں ایک دفعہ یا ساری زندگی میں ایک دفعہ پڑھنے کا ذکر ہے صرف ایک ماہ میں چار دفعہ نہیں۔
اب ان روایات کی حقیقت واضح کی جاتی ہے جن کے تحت اس نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے سب سے پہلے اس روایت کی حقیقت بیان کی جاتی ہے جو ان میں سے زیادہ صحیح بتائی جاتی ہے جسے امام ابوداؤد اور امام ابنِ ماجہ نے اپنی اپنی سنن میں اور امام ابنِ خزیمہ نے اپنی صحیح میں اور امام بیہقی نے سننِ کبریٰ میں جلد نمبر 3 ص 51، 52 اور بقول صاحبِ مرعاة ابنِ حبان نے اپنی صحیح میں اور امام ابو عبد اللہ حاکم نے مستدرک ج 1 ص 317 تا 320 اور امام بخاری نے جزء القرأة میں عکرمہ عن ابنِ عباس ایک ہی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
مرعاة ج 2 ص 252 امام ابو داؤد نے یوں بیان کیا ہے:
سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج 1 ص 499، 500 باب صلاة التسبيح
اور امام ابنِ ماجہ نے بعینہ یہی سند ابنِ عباس تک سنن ص 100 باب ما جاء فی صلاة التسبيح میں ذکر کی ہے اور امام ابنِ خزیمہ نے بھی اپنی صحیح میں ج 2 ص 223، 224 باب صلاة التسبيح میں ابنِ عباس تک یہی سند بیان کی ہے اور امام بیہقی نے بھی سنن کبریٰ ج 3 ص 51، 52 باب ما جاء فی صلاة التسبيح میں یہی سند بیان کی ہے۔
اب اس سند کے متعلق وضاحت کی جاتی ہے۔ اس میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالعزیز ابو شعیب عدنی قنباری مختلف فیہ ہے۔ امام نسائی، امام ابنِ معین نے کہا کہ اس سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں۔ ابنِ شاہین، ابنِ حبان نے اسے ثقہ کہا لیکن ابنِ حبان نے ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ غلطیاں بہت کرتا ہے اور امام ابو فضل سلیمانی نے اسے منکر الحدیث کہا۔ امام ابنِ حجر نے اسے صدوق، سیئی الحفظ کہا یعنی وہ سچا تو تھا لیکن حافظہ خراب تھا۔ امام ذہبی نے کہا اس کی حدیث خصوصاً منکر ہی ہوتی ہے اور ذہبی نے ساتھ یہ بھی کہا کہ اس کا استاد حکم بن ابان بھی ثبت (ثقہ اور قابلِ حجت) نہیں۔ لیکن یہ قابلِ حجت نہیں۔
میزان ج 4 ص 212-213، تہذیب ج 10 ص 356، تقریب ج 2 ص 285، 286، تہذیب الکمال ج 29 ص 101 تا 104
آگے اس موسیٰ کا استاد حکم بن ابان عدنی ابو عیسیٰ بھی مختلف فیہ ہے۔ امام یحییٰ بن معین اور نسائی نے اسے ثقہ کہا۔ ابوزُرعہ نے اسے صالح کہا۔ احمد بن عبد اللہ عجلی نے اسے ثقہ صاحبِ سنت کہا۔ امام ابنِ عدی نے اسے ضعیف کہا۔ امام عقیلی نے فرمایا کہ اس کی متابعت صرف ضعیف سند سے ہی کی جاتی ہے۔ امام عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا کہ حکم بن ابان، ایوب بن سوید اور جسام بن منسک کو پھینک دو یعنی ان تینوں سے روایت لینا چھوڑ دو۔
یعنی اگر یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر وہ حدیث بیان کی ہے۔ ابنِ خزیمہ کی اس عبارت سے بھی واضح ہوا کہ یہ حدیث ان کے نزدیک بھی صحیح سند سے ثابت نہیں۔ ابنِ حجر نے کہا صدوق، عابد و لہ اوہام یعنی وہ سچا اور عابد تو تھا لیکن وہمی تھا۔
تہذیب التہذیب ج 2 ص 223-224 — میزان الاعتدال ج 1 ص 569، 570 — تقریب التہذیب ج 1 ص 190 — تہذیب الکمال ج 7 ص 86 تا 88
اگر یہ کہا جائے کہ عکرمہ صحاحِ ستہ کے راویوں سے ہے تو پھر صحیح بخاری کی بھی وہ حدیثیں جو عکرمہ سے مروی ہیں ان کو اس عکرمہ کی وجہ سے ضعیف کہنا پڑے گا۔ حالانکہ صحیح بخاری کی تمام مرفوع، مسند متصل حدیثوں کی صحت پر جمہور بلکہ تمام محدثین ائمہ دین کا اتفاق ہے۔ علاوہ ازیں یہ حدیث صرف عکرمہ کی وجہ سے ضعیف نہیں ہے بلکہ حکم بن ابان اور اس کے شاگرد موسیٰ بن عبدالعزیز یمانی عدنی قنباری ابو شعیب کی وجہ سے بھی ہے۔
صحیح ابنِ خزیمہ کے حاشیے پر علامہ ناصر الدین البانی صاحب نے بھی اس حدیث کی اس سند کو ضعیف تسلیم کیا ہے۔ اور مذکورہ بالا روایت نہ صحیح ہے جیسا کہ البانی صاحب اور بعض دیگر علماء کہہ رہے ہیں اور نہ ہی حسن ہے جیسا کہ صاحبِ مرعاة اور دیگر بعض علماء کہہ رہے ہیں بلکہ ضعیف ہے۔
جسے ترمذی، ابنِ ماجہ، دار قطنی وغیرہ نے ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا ہے یہ بھی ضعیف اور ناقابلِ حجت ہے اس لئے کہ اس کی سند میں بھی تین راوی متکلم فیہ اور مجروح ہیں۔
زید بن حباب عُکَلِی جسے ذہبی، عجلی، ابنِ مدینی، دار قطنی نے ثقہ کہا اور ابنِ معین نے ایک دفعہ ثقہ کہنے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ اس کی حدیثیں ثوری سے تبدیل شدہ ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے صدوق کہنے کے ساتھ بہت غلطیاں کرنے والا بھی کہا۔
میزان الاعتدال ج 2 ص 100-101، تہذیب التہذیب ج 3 ص 404
دوسرا راوی موسیٰ بن عُبَیدَة بن نَشِيْط بن عمرو بن حارث ابو عبد العزیز رَبَذِی مدنی ہے جسے یحییٰ بن سعید قطان انصاری نے ضعیف اور ناقابلِ اعتماد سمجھتے ہوئے چھوڑ دیا تھا۔ امام احمد بن حنبل نے کہا کہ میرے نزدیک اس سے روایت لینا حلال اور جائز نہیں ہے۔ امام بخاری نے کہا میں اس سے حدیثیں بیان نہیں کرتا۔ نسائی اور ترمذی نے کہا ثقہ نہیں ضعیف ہے۔
كتاب الضعفاء الكبير للعقیلی ج 4 ص 160 تا 163، میزان الاعتدال ج 4 ص 313، 314
تیسرا راوی سعید بن ابی سعید ہے جسے امام ذہبی نے کہا کہ موسیٰ بن عبیدہ کے سوا اس سے کسی نے بھی روایت نہیں کیا یعنی وہ مجہول ہے۔ ابنِ حجر نے بھی اسے مجہول کہا ہے۔
تہذیب التہذیب ج 4 ص 37، میزان الاعتدال ج 2 ص 140، تقریب التہذیب ج 1 ص 297
یہ حدیث بھی باطل ہوئی۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما والی حدیث ہے جسے امام ابو داؤد نے اس سند سے بیان کیا ہے:
سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج 1 ص 500، 501 باب صلاة التسبيح
یہ حدیث بھی سخت ترین ضعیف ہے بلکہ غیر ثابت اور باطل ہے۔
انصاری یا جابر بن عبد اللہ کی حدیث ہے جسے امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں اس سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔
یہ حدیث بھی قابلِ حجت نہیں اس لئے کہ مرسل ہے مرفوع نہیں کیونکہ جابر بن عبد اللہ انصاری سے عروہ بن رویم کی سماعت ثابت نہیں۔ ابنِ حجر عسقلانی اور ابو الحجاج جمال الدین یوسف مزی فرماتے ہیں کہ محدثین کہتے ہیں کہ جابر بن عبد اللہ انصاری، عبد الرحمٰن بن غنم اشعری، ابو ثعلبہ خشنی اور ثوبان مولی رسول اللہ ﷺ سے اس کی حدیثیں مرسل ہیں۔
تہذیب التہذیب ج 7 ص 197، تہذیب الکمال ج 20 ص 8 تا 11، تقریب التہذیب ج 2 ص 19
فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث ہے جو بقول صاحبِ تحفۃ الاحوذی ج 1 ص 350 ابو نعیم نے کتاب القربان میں اس سند کے ساتھ بیان کی ہے:
یہ حدیث بھی ضعیف ہے بلکہ باطل ہے اس لئے کہ اس کی سند میں عبد الحمید بن عبد الرحمٰن طائی اور اس کا باپ عبد الرحمٰن دونوں مجہول ہیں۔ لہٰذا ان کی جہالت کے سبب یہ حدیث بھی ثابت نہیں بلکہ مردود ہے۔
جسے بقول صاحبِ عون المعبود کے امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں اس سند کے ساتھ بیان کیا ہے:
عون المعبود ج 1 ص 501، مُعجم اَوۡسَط ج 3 ص 148، 149
یہ حدیث بھی باطل اور موضوع ہے اس لئے کہ اس کی سند میں پہلے تین راوی مجہول ہیں اور چوتھا راوی عبد القدوس بن حبیب کلائی شامی دمشقی ابو سعید غیر ثقہ، ضعیف ترین، متروک الحدیث، منکر الحدیث، کذاب، ذاہب الحدیث، لیس بشئی، یضع الحدیث، وضاع جھوٹی حدیثیں بنانے والا تھا۔ یہ بھی اس کی گھڑی ہوئی ہے۔
میزان الاعتدال ج 2 ص 633، لسان الميزان ج 4 ص 45 تا 48، كتاب الضعفاء الكبير ج 3 ص 96 تا 98
صاحبِ عون المعبود، صاحبِ تحفۃ الاحوذی اور صاحبِ مرعاة المفاتیح رحمہم اللہ نے جو اپنی اپنی تصنیف میں ابنِ حجر یا سیوطی رحمہم اللہ یا کسی اور کی کتب کے حوالوں سے لکھا ہے کہ ابنِ عباس، فضل بن عباس، ابو رافع، عبد اللہ بن عمرو بن عاص، انصاری یا جابر بن عبد اللہ کے سوا اس نمازِ تسبیح کو عباس بن عبد المطلب، عبد اللہ بن عمر، علی بن ابی طالب، جعفر بن ابی طالب، عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب، ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے بھی بیان کیا ہے۔ تو پہلے پانچ کی روایات کی حقیقت تو واضح کر دی گئی ہے کہ وہ سب ضعیف ہیں۔
لہٰذا نمازِ تسبیح والی سب حدیثیں ضعیف اور ناقابلِ حجت ہیں جیسا کہ امام عقیلی، امام ابنِ العربی، امام ابنِ تیمیہ، امام یوسف مزی اور امام عبد الہادی فرماتے ہیں۔
تحفۃ الاحوذی ج 1 ص 350، مرعاة المفاتیح ج 2 ص 253
ابو جعفر عقیلی فرماتے ہیں کہ اس کے بارے میں کوئی حدیث ثابت ہی نہیں۔ اسی طرح امام ابوبکر بن عربی فرماتے ہیں کہ اس نمازِ تسبیح کے بارے میں نہ صحیح سند سے کوئی حدیث ثابت ہے اور نہ ہی حسن سند سے۔ اور امام ابنِ جوزی تو اسے موضوع کہتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ نمازِ تسبیح والی سب حدیثیں ضعیف اور ناقابلِ حجت ہیں اس کے علاوہ صحیح یا حسن سند کے ساتھ اس نمازِ تسبیح کا پڑھنا نہ آپ ﷺ سے ثابت ہے اور نہ ہی کسی صحابی سے یعنی انفرادی حیثیت میں، جماعت سے پڑھنا تو درکنار۔
علاوہ ازیں یہ نمازِ تسبیح والی حدیثیں درایۃً بھی درست نہیں کیونکہ ان حدیثوں میں مذکور ہے کہ اس نماز کے سبب اگلے، پچھلے، پرانے، نئے، بھول کر کئے ہوئے، جان بوجھ کر کئے ہوئے، چھوٹے، بڑے، پوشیدہ اور ظاہر کئے ہوئے سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔ تو کیا کفر، شرک، بدعت، قتل، زنا، چوری، ڈاکہ، سود، رشوت، ظلم و ستم، عقوق الوالدین اور غیروں کے کھائے ہوئے مال اور دیگر ہڑپ کئے ہوئے حقوق العباد وغیرہ یہ سب گناہ چار رکعت نمازِ نفل پڑھنے سے ہی معاف ہو جائیں گے؟ ہرگز نہیں کیونکہ یہ مذکورہ بالا اور دیگر کبیرہ گناہ خالص توبہ کے بغیر ہرگز معاف نہیں ہوں گے۔
اگر کوئی کہے کہ کبیرہ گناہوں سے مراد بھی صغیرہ گناہ ہیں جو بعض بعض سے کبیرہ ہوتے ہیں یعنی صغیرہ ہی معاف ہوتے ہیں کبیرہ نہیں تو پھر اس کے پڑھنے میں اتنا وقت صرف کرنے کا کیا فائدہ؟ صغیرہ گناہ تو سب نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق وضو کرنے اور نماز پڑھنے سے ہی معاف ہوتے رہتے ہیں۔ قصہ مختصر اس میں وقت صرف کرنے کی بجائے اگر تدبر یعنی سوچ و فکر سے قرآن مجید کی تلاوت کی جائے یا خشوع و خضوع سے نمازِ تہجد پڑھی جائے تو زیادہ فائدہ ہے۔
وَ مَا عَلَيْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُؕ وَالْهِدَايَةُ بِيَدِ اللہِ الْمَتِيْنِ۔
من عبدہ الاثیم
بشیر احمد حسیم رحمہ الرحیم