رکعاتِ تراویح کی تحقیق
ایک علمی و تحقیقی کتابچہ
مصنف: بشیر احمد حسیم رحمہ اللہ
فہرست

رکعات تراویح

الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونؤمن به ونتوکل عليه، ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادی له، ونشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريک له، ونشهد ان محمداً عبده ورسوله۔

اما بعد! دینِ اسلام کی بنیاد اتباعِ سنت پر ہے، اور ایک مسلمان کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات، بالخصوص عبادات کو اللہ کے رسول  کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ڈھال لے۔ نمازِ تراویح یا قیامِ رمضان بھی ان اہم عبادات میں سے ایک ہے جس کے متعلق امت میں تحقیق اور علم کی بڑی اہمیت ہے۔ بدقسمتی سے، عصرِ حاضر میں جہاں علم کی فراوانی ہونی چاہیے تھی، وہاں مسلکی تعصب اور اندھی تقلید نے حقائق کے چہرے پر گرد ڈال رکھی ہے۔

عوام کو بخوبی علم ہونا چاہیے کہ کس طرح کچھ نام نہاد حنفی مقلدین اپنے مخصوص مسلکی نظریات کے تحفظ کے لیے نہ صرف صحیح احادیث سے پہلو تہی کرتے ہیں، بلکہ حقائق کو چھپانے کی مذموم کوشش بھی کرتے ہیں۔ اسی تعصب کی آڑ میں وہ ان مخلصین کو، جو صرف اور صرف قرآن و سنت کی روشنی میں عمل کرنے کے خواہش مند ہیں، "سنت کا مخالف" قرار دے کر سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سنتِ مطہرہ سے انحراف وہ خود کر رہے ہیں اور الزامات دوسروں پر دھرتے ہیں۔

اسی سنگین صورتحال اور عوام الناس کی رہنمائی کے لیے ابی و مربی فضیلۃ الشیخ بشیر احمد حسیم رحمہ اللہ نے اپنی زندگی میں مقلدین کے مکرو فریب کو بے نقاب کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ آپ نے اس مختصر مگر جامع رسالے میں تمام متعلقہ دلائل، ان کی اسنادی حیثیت اور محدثین کی جرح و تعدیل کو نہایت دیانت داری سے پیش کیا ہے۔ آپ نے واضح کیا ہے کہ رسول اللہ  سے وتر سمیت گیارہ رکعات ہی ثابت ہیں، جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی صحیح حدیث اس پر گواہ ہے۔ مصنف نے ان تمام روایات کا علمی رد کیا ہے جو بیس رکعات کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہیں اور ثابت کیا ہے کہ وہ اسنادی لحاظ سے یا تو ضعیف ہیں، یا موضوع، یا ان کے راوی مجروح اور متروک ہیں۔ اس تحقیق سے یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ سنتِ نبوی اور عملِ صحابہ (بمطابق حکمِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ) گیارہ رکعات ہی ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ابو جان کی اس علمی کاوش کو قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطاء فرمائے اور اسے ہم سب کے لیے راہِ ہدایت بنائے۔

آٹھ تراویح کے ثبوت میں دلائل اور ان کی حقیقت

دلیل نمبر 1: حدیث عائیشہ رضی اللہ عنھا

عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه أخبره أنه سأل عائشة كيف كانت صلاة رسول الله ﷺ في رمضان فقالت ما كان رسول الله ﷺ يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة يصلي أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي ثلاثا -

(صحیح بخاری ج 1 ص 154، باب قیام النبی ﷺ فی رمضان وغیرہ۔ کتاب التہجد، صحیح مسلم ج 1 ص 254، باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي  في الليل وأن الوتر ركعة وأن الركعة صلاة صحيحة، سنن نسائی ج 1 ص 200، باب كيف الوتر بثلاث كتاب قيام الليل، سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج 1 ص 512 ط۔ نشر السنہ ملتان۔ باب في صلاة الليل، سنن ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج 1 ص 332، باب ما جاء في وصف صلاة النبي  بالليل، صحیح ابن خزیمہ ج 2 ص 192۔ باب ذکر الخیر الذی یحیل الی بعض من لم یتجر العلم انہ خلاف خبر ابن عباس ھذا الذی ذکرتہ، صحیح ابن حبان ج 5 ص 68-69۔ باب ذکر خبر قد یوھم غیر المتبحر فی صناعة العلم ان المصطفیٰ  کان یصلی باللیل کل اربع رکعات بتسلیمة ویوتر بثلاث بتسلیمة، موطا امام مالک ص 23۔ باب صلاة النبي ﷺ في الوتر، موطا امام محمد ص 138- باب قیام شهر رمضان وما فیہ من الفضل، مسند احمد بن حنبل ج 6 ص 36-73، سنن کبریٰ للبیہقی ج 2 ص 495-496)۔

 

ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف سے مروی ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ  ماہ رمضان میں نماز (تراویح) کیسے پڑھتے تھے؟ تو ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رمضان اور غیر رمضان میں رسول اللہ ﷺ گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ پہلے آپ چار رکعت نماز (تراویح) اتنی اچھی اور لمبی پڑھتے کہ ان کی اچھائی اور لمبائی کا سوال ہی نہ کر۔ پھر آپ چار رکعت نماز (تراویح) اتنی اچھی اور لمبی پڑھتے کہ ان کی اچھائی اور لمبائی کا سوال ہی نہ کر۔ پھر آپ تین رکعت نماز (وتر) پڑھتے۔

نوٹ: 

یاد رکھیے کہ یہ آپ کا اکثر عمل تھا یعنی وتر سمیت گیارہ رکعت والا اور کبھی کبھی آپ وتر سمیت تیرہ رکعت بھی پڑھتے اور کبھی کبھی نو رکعت اور کبھی کبھی سات رکعت بھی پڑھتے تھے۔ بخاری، مسلم اور دیگر مذکورہ بالا کتب حدیث وغیرہ۔

دلیل نمبر 2: حدیث جابر رضی اللہ عنہ

عن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال صلى بنا رسول الله في شهر رمضان ثمان ركعات وأوتر فلما كانت القابلة اجتمعنا في المسجد ورجونا أن يخرج فلم نزل فيه حتى أصبحنا ثم دخلنا فقلنا يا رسول الله اجتمعنا البارحة في المسجد ورجونا أن تصلي بنا فقال إني خشيت أن يكتب عليكم۔

مسند أبي يعلى ج 2 ص 326، 327، صحیح ابن حبان ج 5 ص 62، 64- باب الوتر ذکر الخبر الدال علی ان الوتر لیس بفرض، صحیح ابن خزیمہ ج 2 ص 138- باب ذکر دلیل بان الوتر لیس بفرض، قیام اللیل ص 155، باب صلاة النبي جماعة ليلاً تطوعاً في شهر رمضان، المعجم الاوسط ج 4 ص 441، حدیث نمبر 3745، للطبرانی، المعجم الصغیر ایضاً للطبرانی بحوالہ تحفة الاحوذی ج 2 ص 72 میزان الاعتدال ج 3 ص 311۔ عیسیٰ بن جاریة وقال الذهبي بعد ذکر ھذا الحدیث اسنادہ وسط۔

 جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہمیں ماہ رمضان میں آٹھ رکعت نماز تراویح اور وتر پڑھائے پھر دوسری رات بھی ہم مسجد میں آپ کی آمد کا انتظار کرتے رہے کہ آپ تشریف لا کر ہمیں نماز تراویح پڑھائیں لیکن آپ تشریف نہ لائے حتیٰ کہ ہمیں انتظار کرتے کرتے صبح ہو گئی۔ پھر ہم نے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گزارش کی کہ اے اللہ کے رسول کل رات صبح تک ہم آپ کا انتظار کرتے رہے کہ آپ  تشریف لا کر ہمیں نماز تراویح پڑھائیں تو آپ  نے فرمایا کہ میں اس ڈر سے نہیں آیا کہ کہیں تم پر اس طریقہ سے نماز تراویح فرض نہ ہو جائے یعنی جماعت کی صورت میں۔

 اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں اور امام ابن خزیمہ اور امام ابن حبان نے اپنی صحیحین میں اور امام محمد بن نصر مروزی نے قیام اللیل میں اور امام طبرانی نے المعجم الاوسط اور المعجم الصغیر میں اور امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں ج3ص 311 پر عیسیٰ بن جاریہ کے ترجمہ میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اس حدیث کی سند بہتر ہے اور امام ابن حجر عسقلانی نے اسے فتح الباری ج 3 ص 12، 17۔ باب قیام النبی باللیل میں ذکر کر کے اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ لہذا ان کے نزدیک بھی یہ حدیث صحیح یا حسن ہے کیونکہ انہوں نے فتح الباری شرح صحیح بخاری کے مقدمہ میں کہا ہے کہ اس فتح الباری میں وہی احادیث ذکر کروں گا جو صحیح یا حسن ہوں گی۔ مقدمہ فتح الباری ص 4۔ ط۔ بیروت۔ لبنان۔ اور ابن خزیمہ اور امام ابن حبان کے نزدیک بھی یہ حدیث صحیح ہے اسی لئے وہ اس حدیث کو اپنی صحیحین میں لائے ہیں۔ بقول امام ابن صلاح کے دیکھو ان کی کتاب مقدمہ ابن صلاح ص 11، النوع الاول معرفة الصحیح۔ اور یہ جابر بن عبداللہ والی حدیث مذکورہ بالا ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی حدیث کے بھی موافق ہے جو دلیل نمبر 1 کے تحت گیارہ اماموں یعنی بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابوداؤد، ابن خزیمہ، ابن حبان، امام مالک بن انس، امام محمد بن حسن شیبانی، امام احمد بن محمد بن حنبل، امام بیہقی کی کتب سے بحوالہ جات مذکور ہوئی۔

دلیل نمبر 3: ابی بن کعب کا 8 رکعات پڑھانا

عن جابر بن عبدالله قال جاء أبي بن كعب إلى رسول الله ﷺ فقال يا رسول الله إنه كان مني الليلة شئ يعني في رمضان قال وما ذاك يا أبي قال نسوة في داري قلن إنا لا نقرأ القرآن فنصلي بصلاتك قال فصليت بهن ثمان ركعات وأوترت۔ 

مسند أبي يعلى ج 2 ص326۔ مسند جابر بن عبداللہ۔ المعجم الاوسط ج 4ص 420، 421، حدیث نمبر 4573۔ للطبرانی، قیام اللیل لمحمد بن نصر مروزی، ص 155۔ باب صلاة النبي جماعة ليلاً تطوعاً في شهر رمضان وقال الهيثمي اسناده حسن مجمع الزوائد ج 2 ص 222۔ باب فی الرجل یؤم النساء۔

 

جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہا کہ اے اللہ کے رسول اس گزشتہ رات رمضان میں میں نے ایک عجیب کام کیا ہے۔ آپ  نے فرمایا اے ابی وہ کیا کام ہے تو ابی بن کعب نے گزارش کی کہ میرے گھر میں عورتیں جمع ہو کر کہنے لگیں کہ ہمیں قرآن یاد نہیں لہذا ہم تیرے پیچھے نماز (تراویح) پڑھنا چاہتی ہیں تو میں نے ان کو آٹھ رکعت (تراویح) اور وتر پڑھائے۔

اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام محمد بن نصر مروزی نے قیام اللیل میں بیان کیا ہے اور امام ہیثمی نے ابو یعلیٰ اور طبرانی کی طرف منسوب کر کے اس حدیث کی سند کو حسن قرار دیا ہے یعنی مجمع الزوائد ج ۲ ص ۲۲۲ پر۔

دلیل نمبر 4: عمر رضی اللہ عنہ کا ابی بن کعب اور تمیم الداری کو تراویح پڑھانے کا حکم

عن السائب بن يزيد انه قال امر عمر بن الخطاب ابى بن كعب وتميم الدارى ان يقوما للناس فى رمضان باحدى عشرة ركعته فكان القارئ يقرء بالمئين حتى كنا نعتمد على العصى من طول القيام وما كنا ننصرف الا فى طلوع الفجر-

رواه مالك فى الموطأ، ص 40 باب ماجاء فى قيام رمضان و محمد بن نصر المروزى فى قيام الليل ص 157، باب عدد ركعات التى يقوم بها الامام للناس فى رمضان وابن ابى شيبة فى المصنف، ج 2، ص 283- کتاب صلوة التطوع والامامة فى صلوة رمضان والبيهقى فى السنن الكبرى ج 2 ص 496، باب ماروى فى عدد ركعات القيام فى شهر رمضان وسعيد بن منصور فى السنن كما قال العلامة المباركفورى فى تحفة الاحوذى شرح سنن الترمذى، ج 2، ص 74- وقال اى المباركفورى وقال النيموى فى آثار السنن اسناده صحیح-

سائب بن یزید سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ماہ رمضان میں ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعت نماز (تراویح) پڑھایا کریں اور سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ امام سو سو آیات والی لمبی سورتیں پڑھتا تھا کہ ہم اس کے لمبا قیام کرنے کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر سہارا لیتے تھے اور صبح کے قریب ہم نماز (تراویح) سے فارغ ہوتے تھے۔ روایت کیا اس کو امام مالک نے مؤطا میں اور ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور محمد بن نصر مروزی نے قیام اللیل میں اور بیہقی نے سنن کبری میں اور بحوالہ تحفۃالاحوذی سعید بن منصور نے سنن میں اور علامہ مبارکپوری فرماتے ہیں کہ علامہ نیموی حنفی اپنی کتاب آثار السنن میں لکھتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔ تحفة الاحوذی ج 2 ص74۔

برادران اسلام مذکورہ بالا احادیث صحیحہ سے اظہر من الشمس ہو گیا کہ حقیقی امام اعظم اور قائد اعظم حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ خاتم النبیین سید الاولین والآخرین شفیع المذنبين الموحدين المتبعین سننه صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بیضا اور معمول صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آٹھ رکعت تراویح تھا، نہ کہ بیس رکعت، کیونکہ آٹھ رکعت والی تمام حدیثیں صحیح ہیں جیسا کہ مدلل مفصل مذکور ہوا۔ اور بیس رکعت والی مرفوع حدیث جو پیش کی جاتی ہے وہ بالکل من گھڑت اور جھوٹی ہے اور جو آثار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پیش کئے جاتے ہیں وہ بھی تمام ضعیف اور غیر معتبر ہیں جیسا کہ کیفیت نماز کے بعد اسی کتابچے میں ان شاء اللہ العزیز آگے بیان ہو گا۔

امام اعظم آنحضرت کے نماز تراویح پڑھانے کی کیفیت

عن جبير بن نفير عن أبي ذر قال صمنا مع رسول الله فلم يصل بنا حتى بقي سبع من الشهر فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل ثم لم يقم بنا في السادسة وقام بنا في الخامسة حتى ذهب شطر الليل فقلنا يا رسول الله لو نفلتنا بقية ليلتنا هذه فقال إنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلته ثم لم يصل بنا حتى بقي ثلث من الشهر وصلى بنا في الثالثة ودعى أهله ونساءه فقام بنا حتى تخوفنا الفلاح قلت له ما الفلاح؟ قال السحور۔

سنن ترمذی مع تحفة الاحوذی ج 2ص 72، 73، باب ما جاء فی قیام شهر رمضان وقال أبو عیسی الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح، سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج 1 ص 521، سنن نسائی ج 1 ص 191، 192۔ باب قیام شهر رمضان، سنن ابن ماجہ ص 95، باب ما جاء فی قیام شهر رمضان، مسند احمد ج 5 ص 159، 16۰، 163، 172، 180۔ قیام اللیل ص 153۔ باب صلاة النبي ﷺ جماعة ليلاً تطوعاً في شهر رمضان، سنن کبریٰ للبیہقی ج 2 ص 494 باب من زعم انھا بالجماعة افضل۔

جبیر بن نفیر سے مروی ہے کہ ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ کے ہمراہ روزے رکھتے رہے لیکن آپ نے ہمیں بائیس رات تک نماز تراویح نہ پڑھائی پھر جب تیئسویں رات ہوئی تو اس رات آپ نے ہمیں تہائی رات تک نماز تراویح پڑھائی۔ پھر چوبیسویں رات چھوڑ کر پچیسویں رات آپ نے ہمیں نصف رات تک نماز تراویح پڑھائی پھر ہم نے گزارش کی کہ اے اللہ کے رسول اگر آپ ہمیں بقیہ نصف رات یعنی ساری رات بھی نماز تراویح پڑھاتے تو بہتر ہوتا تو آپ نے فرمایا کہ امام کے ساتھ پڑھنے والے کو ساری رات کے قیام کا ثواب مل جاتا ہے پھر آپ نے چھبیسویں رات چھوڑ کر ستائیسویں رات اپنے اہل و عیال سمیت ہمیں اتنی لمبی نماز تراویح پڑھائی کہ ہمیں سحری کے فوت ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا کہ ہم سے سحری کا کھانا چھوٹ نہ جائے۔

روایت کیا اس حدیث کو نسائی، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، احمد بن حنبل، محمد بن نصر مروزی اور بیہقی نے۔ اور ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔

بیس تراویح کے ثبوت میں دلائل اور ان کی حقیقت

دلیل نمبر 1: حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ

عن ابن عباس أن النبي ﷺ كان يصلي في رمضان عشرين ركعة سوى الوتر أو والوتر۔

مصنف ابن أبي شيبة ج 2ص 286 کتاب صلاة التطوع والامامة باب کم یصلی فی رمضان من رکعة، المعجم الاوسط ج 1 ص 444، 445، المعجم الاوسط ج 6 ص 201 للطبرانی، المعجم الکبیر ایضاً للطبرانی بحوالہ تحفة الاحوذی ج2 ص 75۔ ط۔ بیروت۔ لبنان، سنن کبریٰ للبیہقی ج 2 ص 496 باب ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان۔
 وقال البيهقي بعد روایته ھذا الحدیث تفرد به أبو شيبة إبراهيم بن عثمان العبسي الكوفي وهو ضعيف ج 2 ص 496۔ وقال الطبرانی بعد روایته لم يرو هذا الحديث عن الحكم إلا أبو شيبة ولا يروى عن ابن عباس إلا بهذا الإسناد فقد ذکره الهیثمی فی مجمع الزوائد کتاب الصیام باب قیام رمضان ج 2 ص 402، رواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط وفيه أبو شيبة إبراهيم وهو ضعيف۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ نبی رمضان میں وتر کے سوا بیس رکعت پڑھتے تھے یا بیس رکعت اور وتر پڑھتے تھے۔

روایت کیا اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں اور بیہقی نے سنن کبریٰ میں اور ان تمام نے اس حدیث کو ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان سے روایت کیا ہے اور ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے حکم سے اور حکم نے مقسم سے اور مقسم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بیان کیا ہے کہ نبی  رمضان میں بیس رکعت (تراویح) اور وتر پڑھتے تھے۔

یہ حدیث موضوع یعنی گھڑی ہوئی اور بناوٹی ہے کیونکہ اس کی سند میں جو ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان عیسیٰ کوفی ہے جسے امام طبرانی، بیہقی اور امام ہیثمی نے ضعیف قرار دیا ہے جیسا کہ مذکور ہوا۔ اس کے متعلق دیگر محدثین کے فیصلے بھی سن لیجئے:

امام یحییٰ بن معین، ابو داؤد ترمذی، نسائی، ابو حاتم، ابراہیم بن یعقوب جوز جانی، ابن حبان، احوص بن مفضل بن غسان غلابی، ابو علی حسین بن علی حافظ، صالح بن محمد بغدادی، دولابی، ابن عدی، ابن حجر عسقلانی، امام بخاری، شعبہ بن حجاج، عبداللہ بن مبارک، دار قطنی، ابن سعد اور ان کے علاوہ بھی کئی محدثین کی طرف سے اسے ضعیف الحدیث، منکر الحدیث، متروک الحدیث، ليس بثقة ليس بالقوي في الحديث، سكتوا عنه تركوا حديثه الإجماع على تركه، کذاب، ارم به، لا يكتب حديثه۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ بالاتفاق محدثین متروک ہے قابل حجت نہیں ہے۔ انتہائی کنڈم ہے محدثین کی لسٹ میں شمار ہی نہیں۔

اس پرجرح کرنے کو محدثین نے ضیاعِ وقت پر محمول کیا ہے۔

اس کا تفصیلی ترجمہ درج ذیل کتب میں ملاحظہ فرمائیں:

تہذیب الکمال ج 2 ص 147 تا 151، تہذیب التہذیب ج 1 ص 144-145، تقریب التہذیب ج 1 ص 39، میزان الاعتدال ج 1 ص 27-28، لسان المیزان ج 7 ص3، کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی ج 1 ص 59-60، تاریخ بغداد ج6 ص 111 تا 114، الجرح والتعدیل ج2 ص 115 راوی 373۔ امام صالح بن محمد بغدادی نے فرمایا اس کی منکر حدیثوں سے یہ بیس تراویح والی حدیث بھی ہے۔ تہذیب الکمال ج 2 ص 149۔ امام طبرانی اور بیہقی کی طرح اس حدیث کو امام سیوطی نے حاوی ج 2 ص 73 پر اور امام ابن حجر ہیتمی نے فتاویٰ کبریٰ ج 1 ص 195 پر بہت ہی ضعیف لکھا ہے بحوالہ حاشیہ تہذیب الکمال ج 2 ص 149 اور امام زیلعی حنفی نے نصب الرایہ ج 2 ص 153 پر لکھا ہے کہ ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کو تمام محدثین نے ضعیف اور ناقابل اعتماد کہا ہے۔

اسی طرح ابن عدی نے کامل میں لکھا ہے اسی طرح علامہ ابن الہمام حنفی نے فتح القدیر میں اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق و اجماع لکھا ہے۔ اسی طرح علامہ عینی حنفی نے صحیح بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں ج 11 ص 128 پر اس حدیث کو نقل کر کے لکھا ہے کہ ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کو امام شعبہ بن حجاج نے جھوٹا کہا ہے۔ بحوالہ تحفة الاحوذی ج 2 ص 75۔ ط۔ بیروت۔ لبنان۔

لہذا یہ حدیث من گھڑت اور جھوٹی ہے۔ یہ اسی ابو شیبہ کی گھڑی ہوئی ہے۔ یہ ہے صرف ایک مرفوع حدیث جو بیس تراویح کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہے۔ جس کی حقیقت محدثین اور محققین علماء احناف کے فیصلوں سے بالوضاحت بیان کر دی گئی ہے۔ اب اس کے متعلق آثار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور ان کی حقیقت ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ خود کر لیں۔

اثر نمبر 1: راوی ابی الحسناء

عن أبي الحسناء أن علي بن أبي طالب أمر رجلاً أن يصلي بالناس خمس ترويحات عشرين ركعة۔

مصنف ابن أبي شيبة ج 2 ص285 کتاب صلاة التطوع والامامة باب کم یصلی فی رمضان من رکعة، سنن کبریٰ للبیہقی ج2ص497۔

ابی الحسناء سے مروی ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعت (تراویح) پڑھایا کرے۔

روایت کیا اس کو ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور بیہقی نے سنن کبریٰ میں۔ اس کی سند میں جو ابو الحسناء راوی ہے وہ مجہول ہے۔

دیکھیں میزان الاعتدال ج ۴ ص ۵۱۵ للذہبی۔ تقریب التہذیب ج ۲ ص ۴۱۳۔ بعض محدثین نے اس کا نام حسن اور بعض نے حسین بتایا ہے۔ بقول امام ابی الحجاج جمال الدین یوسف مزی اور ابن حجر عسقلانی کے۔ تہذیب الکمال ج ۳۳ ص ۲۳۸، تہذیب التہذیب ج ۱۲ ص ۴۷-۷۵۔

اس ابوالحسناء کے مجہول ہونے کے سبب یہ اثر مردود ہے کیونکہ جمہور محدثین کے نزدیک مجہول راوی کی ہر روایت مردود ہوتی ہے جیسا کہ شرح نخبہ الفکر لابن حجر عسقلانی، الکفایة فی علم الروایة للخطیب بغدادی، تقریب النواوی، تدریب الراوی للسیوطی، مقدمہ ابن الصلاح، اختصار علوم الحدیث لابن کثیر، الفیة العراقی، الباعث الحثیث وغیرہ میں مذکور ہے۔

اثر نمبر 2: راوی حماد بن شعیب حمانی کوفی

روى البيهقي في سننه الكبرى ج ۲ ص ۴۹۶ من طريق حماد بن شعيب عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي عن علي رضي الله تعالى عنه قال دعا القراء في رمضان فأمر منهم رجلاً يصلي بالناس عشرين ركعة قال وكان علي رضي الله تعالیٰ عنه يوتر بهم۔

 ابی عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ماہ رمضان میں حافظوں کو بلا کر ان میں سے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعت پڑھایا کرے۔ اور ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں کہ وتر ان کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود پڑھاتے تھے۔

اس اثر کی سند میں حماد بن شعیب حمانی کوفی بہت ہی ضعیف راوی ہے امام یحییٰ بن معین، امام نسائی، امام ابو حاتم، امام عقیلی، امام ابن عدی، امام ابو زرعہ، امام زکریا ساجی اور امام بخاری نے اسے ضعیف اور متروک الحدیث کہا امام بخاری نے اسے منکر الحدیث بھی کہا اور"ترکوا حدیثه" بھی کہا، فيه نظر بھی کہا۔ امام بخاری فرماتے ہیں جس راوی کے متعلق لفظ منکر الحدیث کہوں تو اس سے روایت کرنا جائز نہیں اس لئے کہ وہ کذاب ہوتا ہے۔

میزان الاعتدال ج ۱ ص ۵۹۶، لسان المیزان ج ۱ ص ۲۰۔ ترجمہ ابان بن جبلہ کوفی، الباعث الحثیث ص ۸۹، مراتب تجریح۔

اور جس راوی کے متعلق لفظ ترکوہ استعمال کیا جائے اس کی روایت بھی مردود ہوتی ہے۔

مقدمہ میزان، مقدمہ لسان اور دیگر کتب مصطلحات۔ امام ابن کثیر، امام عبد الرحیم بن حسین عراقی، امام سیوطی فرماتے ہیں کہ جس راوی کے متعلق امام بخاری یا دیگر محدثین لفظ سکتوا عنه یا فيه نظر استعمال کریں وہ راوی انتہائی ضعیف، ردی اور متروک ہوتا ہے۔ 

ملاحظہ فرمائیں: تدریب الراوی ج 1ص 296 (تنبیہات) الفیہ عراقی مراتب تجریح، اختصار علوم الحدیث۔ اسی طرح ابن الہمام حنفی بھی اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ جب امام بخاری کسی راوی کے متعلق یہ لفظ استعمال کریں یعنی کہ اس میں نظر ہے تو اس راوی کی بیان کردہ روایت قابل حجت نہیں ہوتی۔ بحوالہ تحفة الاحوذی ج 2 ص 75۔ لہذا یہ اثر بھی مردود ہے۔

اس حماد بن شعیب حمانی کوفی کا ترجمہ درج ذیل کتب میں ملاحظہ فرمائیں: میزان الاعتدال ج 1 ص 596، لسان المیزان ج 2 ص 348، کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی ج 1 ص 311، الجرح والتعدیل ج 2 ص 142۔

اثر نمبر 3: راوی سلیمان بن مہران اعمش

قال الاعمش كان ابن مسعود يصلي عشرين ركعة ويوتر بثلاث

ص 157 باب عدد ركعات التي يقوم بها الإمام للناس في رمضان لمحمد بن نصر المروزي۔

سلیمان بن مہران اعمش نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھتے تھے۔

یہ اثر بھی منقطع ہونے کی وجہ سے مردود ہے

اس لئے کہ اعمش نے عبداللہ بن مسعود کو نہیں پایا کیونکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ 32 یا 33 ہجری کو فوت ہوئے تھے جیسا کہ تہذیب الکمال ج 16 ص 126، تہذیب التہذیب ج6 ص 28 پر مذکور ہے اور سلیمان بن مہران اعمش 57 یا 59 یا 61 ہجری کو پیدا ہوئے تھے یعنی عبداللہ بن مسعود کی وفات کے 24 یا 25 یا 26 یا 28 یا 29 سال بعد تو اعمش کو ابن مسعود کے عمل کا کیسے علم ہوا؟

اس تاریخی حقیقت کے سبب یہ اثر بھی جھوٹا ثابت ہوا۔

اثر نمبر 4: راوی عبدالعزیز بن رفیع اسدی

عن عبد العزيز بن رفيع قال كان أبي بن كعب يصلي بالناس في رمضان بالمدينة عشرين ركعة ويوتر بثلاث

مصنف ابن أبي شيبة ج 2 ص 285 کتاب صلاة التطوع والامامة باب کم یصلی فی رمضان من رکعة۔

عبدالعزیز بن رفیع نے کہا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کے اندر رمضان میں لوگوں کو بیس رکعت (تراویح) اور تین وتر پڑھایا کرتے تھے۔

روایت کیا اس کو ابن ابی شیبہ نے مصنف میں۔

یہ اثر بھی منقطع ہونے کی وجہ سے مردود ہے کیونکہ عبدالعزیز بن رفیع اسدی نے ابی بن کعب کو نہیں پایا وہ اس طرح کہ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ 30 یا 32 ہجری کو عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں فوت ہو گئے تھے جیسا کہ تہذیب الکمال ج 2 ص 272، 273 بمع حاشیہ از بشار بن عواد اور تہذیب التہذیب ج 1 ص 188 پر مذکور ہے

اور عبدالعزیز بن رفیع اسدی کی وفات 130 ھ یا اس کے بعد لکھی ہے۔ اور اس کی عمر بعض نے ستر سال سے کچھ اوپر اور بعض نے نوے سال سے کچھ اوپر لکھی ہے جیسا کہ تہذیب الکمال ج8 ص 136 بمع حاشیہ از بشار بن عواد، تہذیب التہذیب ج 6 ص 333 پر مذکور ہے

اگر 130 سے اسے نفی کریں تو اس کی ولادت 59 ھ بنتی ہے

اور اگر 91 نفی کریں تو اس کی ولادت39 ھ بنتی ہے اور 59 سے 30 نفی کریں تو باقی 29 سال بنتے ہیں اور اگر 59 سے 32 نفی کریں تو باقی27 سال بنتے ہیں اسی طرح 39 سے 30 نفی کریں تو باقی 9 سال بنتے ہیں اور اگر 39 سے 32 نفی کریں تو باقی7 سال بنتے ہیں

تو ابی بن کعب کی وفات کے 29 یا 27 سال بعد یا 9 یا 7 سال بعد پیدا ہونے والے راوی عبدالعزیز بن رفیع اسدی کو ابی بن کعب کے عمل کا کیسے پتہ چلا؟

اس تاریخی حقیقت سے یہ اثر بھی جھوٹا ثابت ہوا۔ اسی لئے علامہ نیموی حنفی نے آثار السنن میں اس اثر کو منقطع قرار دیا۔

اثر نمبر 5: راوی یحییٰ بن سعید

عن يحيى بن سعيد أن عمر بن الخطاب أمر رجلاً يصلي بهم عشرين ركعة۔

مصنف ابن أبي شيبة ج 2 ص 285 کتاب صلاة التطوع والامامة باب کم یصلی فی رمضان من رکعة۔

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا جو لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھاتا تھا۔

روایت کیا اس کو ابن ابی شیبہ نے مصنف میں۔

یہ اثر بھی منقطع ہونے کی وجہ سے مردود ہے اس لئے کہ یحییٰ بن سعید نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ 26 یا 27 ذی الحجہ 23 ہجری میں شہید ہو گئے تھے جیسا کہ تہذیب الکمال ج 21 ص 317، تہذیب التہذیب ج7ص 441 پر مذکور ہے اور یحییٰ بن سعید بن قیس بن عمرو بن سہل ابو سعید انصاری نجاری مدنی قاضی مدینہ 143 یا 144 ھ میں فوت ہوئے تھے جیسا کہ تہذیب الکمال ج ۳۱ ص ۳۵۸، تہذیب التہذیب ج ۱۱ ص ۲۲۳ اور تاریخ بغداد ج ۱۴ ص ۱۰۶ پر مذکور ہے

اس لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور یحییٰ بن سعید کی وفات کے درمیان 120 یا 121 سال کا عرصہ بنتا ہے یہ تاریخی شہادت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یحییٰ بن سعید انصاری حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد پیدا ہوئے تھے بلکہ سیر اعلام النبلاء ج 5 ص 468، 475 پر مذکور ہے کہ وہ 70 ھ سے قبل تقریباً 69  ھ میں  پیدا ہوئے تھے اور تقریباً74 سال عمر پا کر 143 یا 144 ھ میں فوت ہوئے تھے اس لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور ان کی ولادت کے درمیان 46 یا47 سال کا فاصلہ ہے تو ان کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کا کیسے علم ہوا؟

اسی تاریخی شہادت کے سبب علامہ نیموی حنفی بھی اپنی کتاب آثار السنن میں اس اثر کو منقطع تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ لہذا یہ اثر بھی مردود ہے۔

اثر نمبر 6: امام بیہقی کی روایت اور متعدد علل

قال الزيلعي في نصب الراية ج 2۲ ص 153 في قيام شهر رمضان أحاديث العشرين ركعة حديث آخر موقوف رواه البيهقي في المعرفة:

أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو عثمان البصري ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب ثنا خالد بن مخلد ثنا محمد بن جعفر حدثني يزيد بن خصيفة عن السائب بن يزيد قال كنا نقوم في زمن عمر بن الخطاب بعشرين ركعة والوتر۔

امام بیہقی نے کہا ہمیں ابو طاہر فقیہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں ابو عثمان بصری نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں ابو احمد محمد بن عبد الوهاب نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں خالد بن مخلد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں محمد بن جعفر نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا وہ سائب بن یزید سے بیان کرتے ہیں کہ ہم عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعت اور وتر پڑھتے تھے۔

روایت کیا اس کو بیہقی نے معرفة السنن میں بحوالہ نصب الرایہ ج 2 ص 153۔ فصل فی قیام شهر رمضان۔ یہ اثر بھی کئی لحاظ سے مردود ہے۔

نمبر 1: 

اس کی سند میں دو راوی مجہول ہیں ایک بیہقی کا استاد ابو طاہر فقیہ اور دوسرا ابو طاہر کا استاد ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری۔

نمبر 2: 

اس میں جو سائب بن یزید سے بیان کرنے والا یزید بن عبداللہ بن خصیفہ ہے یہ اگرچہ ثقہ راوی ہے لیکن سائب بن یزید سے ان کا بھانجا امام محمد بن یوسف گیارہ رکعتیں بیان کرتا ہے جیسا کہ سعید بن منصور نے اپنی سنن میں یوں بیان کیا ہے:

قال حدثنا عبد العزيز بن محمد حدثني محمد بن يوسف سمعت السائب بن يزيد يقول:

كنا نقوم في زمان عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه بإحدى عشرة ركعة۔

بحوالہ تحفة الاحوذی ج 2 ص 75۔

 سعید بن منصور نے کہا ہمیں عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا اس نے کہا مجھے محمد بن یوسف نے بیان کیا اس نے کہا میں نے سائب بن یزید کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم عمر بن خطاب کے زمانہ میں گیارہ رکعت پڑھتے تھے۔ اور محمد بن یوسف یزید بن عبداللہ بن خصیفہ سے زیادہ ثقہ ہے کیونکہ اس کی توثیق میں متفقہ ثبت کے الفاظ مذکور ہیں اور بالاتفاق ثقہ ہے کسی محدث اور امام سے اس کی تضعیف ثابت نہیں دیکھو اس کا  

تہذیب الکمال ج 27 ص 49 تا 52، تہذیب التہذیب ج 9 ص 534،535، تقریب التہذیب ج 2 ص 221 اور ذہبی نے میزان میں اس کا ذکر تک نہیں کیا اس لئے کہ اس کی ثقاہت، امامت، عدالت، جلالت، فقاہت، زہد و تقویٰ حفظ و اتقان پر محدثین کا اتفاق ہے

لیکن یزید بن عبداللہ بن خصیفہ کی توثیق میں متفقہ ثبت کے ساتھ امام احمد بن محمد بن حنبل نے اسے منکر الحدیث بھی کہا ہے جس سے اس کی ثقاہت میں کمی ہو گئی۔

اس یزید بن عبداللہ بن خصیفہ کا ترجمہ دیکھو:

تہذیب الکمال ج 32 ص 147 تا 171، تہذیب التہذیب ج 11 ص 320، میزان الاعتدال ج 4 ص 430۔ تو یزید بن عبداللہ بن خصیفہ والا مذکورہ بالا اثر یعنی بیس رکعت اور وتر والا جو بیہقی کے حوالہ سے اثر نمبر 6 کے تحت مذکور ہوا وہ شاذ ہے

اور محمد بن یوسف والا اثر جو سعید بن منصور کی سنن کے حوالہ سے مذکور ہوا یعنی گیارہ رکعت والا وہ محفوظ ہے

اور محدثین کی اصطلاح میں ایسی روایت کو خواہ مرفوع ہو یا موقوف جس کو ثقہ راوی اپنے سے زیادہ ثقہ یا ثقات کے خلاف بیان کرے اسے شاذ کہتے ہیں اور شاذ مردود ہوتی ہے مقبول نہیں۔

لہذا مذکورہ بالا سائب بن یزید والا اثر یعنی ہم عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعت اور وتر پڑھتے تھے نمبر 6 والا دو راویوں کی جہالت کے سبب اور شاذ ہونے کے سبب مردود ہوا

اور یہ اس لئے بھی مردود ہوا کہ یہ اس اثر کے خلاف ہے جسے امام مالک نے موطأ ص 40 باب ما جاء فی قیام رمضان میں اور امام بیہقی نے سنن کبریٰ ج 2ص496 باب ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان میں اور امام محمد بن نصر مروزی نے قیام اللیل ص 157 باب عدد ركعات التي يقوم بها الإمام للناس في رمضان میں اور امام ابن ابی شیبہ نے مصنف ج 2 ص 284 کتاب صلاة التطوع والامامة في صلاة رمضان میں اسی محمد بن یوسف سے اور اس محمد بن یوسف نے اپنے ماموں سائب بن یزید سے بیان کیا ہے کہ

اس سائب بن یزید نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو وتر سمیت گیارہ گیارہ رکعتیں تراویح پڑھایا کریں۔

اس اثر کو محمد بن یوسف نے اپنے ماموں سائب بن یزید سے بیان کیا ہے جو یزید بن عبداللہ بن خصیفہ سے زیادہ ثقہ ہے اس کے تثبُّت میں ذرہ بھر شبہ نہیں بالکل صحیح متصل سند سے ثابت ہے مذکورہ بالا کتب سے محولہ ابواب نکال کر دیکھ لیں۔

تو جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گیارہ گیارہ رکعتیں پڑھانے کا حکم دے رہے ہیں تو دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کے حکم کی خلاف ورزی اور مخالفت کیسے کر سکتے ہیں؟ اس سے تو واضح ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اجماع تو گیارہ گیارہ رکعتیں پڑھنے پڑھانے پر تھا نہ کہ بیس اور تین وتر سمیت تیئیس رکعتوں پر۔اس سے بیہقی والا وہ اثر بھی مردود ہوا جس میں سائب بن یزید کہتے ہیں کہ لوگ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ماہ رمضان کے اندر بیس رکعتیں پڑھتے تھے کیونکہ اسے بھی سائب بن یزید سے بیان کرنے والا یزید بن عبداللہ بن خصیفہ ہے لہذا یہ بھی شاذ ہونے کی وجہ سے مردود ہے نیز اس میں امام بیہقی کا استاد ابو عبد اللہ حسین بن محمد بن حسین فنجویہ دینوری مجہول الحال ہے اس وجہ سے بھی یہ اثر باطل ہے۔

اثر نمبر 7: راوی یزید بن رومان کا انقطاع

عن يزيد بن رومان أنه قال كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه في رمضان بثلاث وعشرين ركعة۔

موطأ امام مالک ص40باب ما جاء فی قیام رمضان، سنن کبریٰ للبیہقی ج 2 ص 496 باب ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان، قیام اللیل باب عدد الرکعات التی یقوم بھا الامام للناس فی رمضان ص 157 لمحمد بن نصر المروزی۔

 

یزید بن رومان کہتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ماہ رمضان کے اندر تیئیس رکعتیں پڑھتے تھے۔ روایت کیا اس کو بیہقی نے سنن کبریٰ میں اور مالک بن انس نے موطأ میں اور محمد بن نصر مروزی نے قیام اللیل میں۔ رحمہم اللہ رحمۃ واسعة اجمعین۔

یہ اثر بھی منقطع ہونے کی وجہ سے مردود ہے اس لئے کہ یزید بن رومان نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ نہیں پایا کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ 26 یا 27 ذی الحجہ 23 ہجری کو شہید ہو گئے تھے جیسا کہ اس سے پہلے اثر نمبر5 کی بحث میں مدلل گزر چکا اور یزید بن رومان 130 ہجری میں فوت ہوئے تھے جیسا کہ تہذیب الکمال ج 32 ص 123، تہذیب التہذیب ج 11 ص 325 پر مذکور ہے۔ اس لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور یزید بن رومان کی وفات کے درمیان 107 سال کا فاصلہ بنتا ہے اور یہ تاریخی شہادت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یزید بن رومان حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد پیدا ہوئے تھے تو ان کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں کسی عمل کے وجود کا کیسے علم ہوا؟ اس حقیقت کے تحت یہ اثر بھی مردود ہوا۔

برادران اسلام یہ ہیں بیس تراویح کے ثبوت میں دلائل اور ان کی حقیقت اب طرفین کے دلائل پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرنا آپ کا فرض ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔

آئمہ احناف کی  آٹھ رکعات تراویح کے بارے میں گواہیاں:

برادران اسلام جو لوگ عوام میں یہ بات پھیلاتے ہیں کہ تہجد اور نماز ہے اور تراویح اور نماز ہے وہ عوام کو دھوکا دیتے ہیں لہذا ہم صرف ان کے ہی گھر کی شہادتوں سے ثابت کرتے ہیں کہ تہجد اور تراویح الگ الگ دو نمازیں نہیں بلکہ دونوں لفظوں (تہجد اور تراویح) سے مراد ایک ہی نماز ہے اپنے ہی بزرگان یعنی علماء احناف کے فیصلے توجہ سے سن لیجئے:

شہادت نمبر 1:

مشہور و معروف ہستی علامہ انور شاہ کشمیری حنفی صحیح بخاری کی شرح فیض الباری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مذکورہ بالا پہلی حدیث مع وتر گیارہ رکعت والی کی شرح میں لکھتے ہیں:

المختار عندي أن التراويح وصلاة الليل واحد وأن اختلفت صفتها هما كعدم المواظبة على التراويح وأدائها بالجماعة في أول الليل تارة وإيصالها إلى السحر أخرى بخلاف التهجد فإنه كان في آخر الليل ولم تكن فيه الجماعة وجعل اختلاف الصفات دلیلاً على اختلاف نوعيهما ليس بجيد عندي بل كانت تلك صلاة واحدة إذا تقدمت سميت باسم التراويح وإذا تأخرت سميت باسم التهجد۔

میرے نزدیک بہتر اور پسندیدہ یہی ہے کہ تراویح اور صلاة الليل (تہجد) ایک ہی نماز ہے اگرچہ ان کی صفات مختلف ہیں جیسے تراویح پر عدم دوام اور کبھی اس کو جماعت کے ساتھ اول رات ہی ادا کرنا اور کبھی سحری تک لے جانا یعنی اول رات سے شروع کر کے سحری تک ختم کرنا بخلاف تہجد کے کیونکہ ایک تو وہ آخری رات میں ہوتی ہے اور دوسری اس میں جماعت نہیں ہوتی اور صفتوں کے اختلاف کو مختلف دو قسموں پر دلیل بنانا میرے نزدیک اچھی بات نہیں بلکہ وہ ایک ہی نماز ہے جب اول وقت پڑھی جائے تو اس کا نام تراویح ہے اور جب آخری وقت پڑھی جائے تو اس کا نام تہجد ہے

 بحوالہ مرعاة المفاتیح شرح مشکوة المصابیح ج 2 ص 225۔

اور یہی بزرگ یعنی علامہ انور شاہ کشمیری حنفی العرف الشذی شرح سنن ترمذی ص 329، 330 پر یوں رقمطراز ہیں:

لا مناص من تسليم أن تراويحه عليه السلام كانت ثمانية ركعات ولم يثبت في رواية من الروايات أن عليه السلام صلى التراويح والتهجد علی حده في رمضان بل طول التراويح وبين التراويح والتهجد في عهده عليه السلام لم يكن فرق في الركعات بل في الوقت والصفة أي التراويح تكون بالجماعة في المسجد بخلاف التهجد وأن الشروع في التراويح يكون في أول الليل وفي التهجد في آخر الليل۔ العرف الشذی شرح سنن ترمذی کے حوالہ سے مرعاة المفاتیح شرح مشکوة المصابیح ج 2 ص 229۔

علماء احناف خواہ کتنا ہی پاپڑ بیلیں اور ہیرا پھیری کریں لیکن سچ اور حق بات یہی ہے کہ اسے تسلیم کرنے کے بغیر ہمارے لئے کہیں جائے پناہ نہیں کوئی چارہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز تراویح تو آٹھ رکعت ہی تھی اور روایات میں سے کسی روایت میں بھی قطعاً یہ ثابت نہیں کہ رسول اللہ  نے ماہ رمضان میں تراویح اور تہجد علیحدہ علیحدہ پڑھی ہوں بلکہ آپ  نے تراویح کو لمبا کیا اور آپ  کے زمانہ میں تراویح اور تہجد کی تعداد اور رکعات میں کوئی فرق نہیں تھا بلکہ وقت اور صفت (کیفیت) میں فرق تھا یعنی تراویح مسجد میں جماعت کے ساتھ ہوتی تھی بخلاف تہجد کے اور تراویح اول رات میں شروع ہوتی تھی اور تہجد آخری رات میں۔

شہادت نمبر 2:

امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد بن حسن شیبانی نے اپنی مشہور و معروف کتاب موطأ میں باب قیام شهر رمضان وما فیہ من الفضل کے تحت وہی احادیث ذکر کی ہیں جن میں جماعت کے ساتھ صرف تین راتیں نماز تراویح پڑھانے کا ذکر ہے اور فرضیت کے خدشہ سے آپ  کا جماعت کو ترک کرنا مذکور ہے اور رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ پڑھنے کی نفی ہے اور قیام رمضان کی ترغیب اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لوگوں کو ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم ہے اور آخری رات میں اس نماز کو پڑھنے کی فضیلت اور خود ان کا اس نماز کو آخری رات میں ادا کرنا بجائے جماعت کے ساتھ اول رات ادا کرنے کے مذکور ہے اور ان احادیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

قال محمد وبهذا كله نأخذ۔ موطأ محمد ص 139، باب قیام شهر رمضان وما فیہ من الفضل۔

امام محمد بن حسن شیبانی فرماتے ہیں کہ ہمارا عمل بھی انہی تمام حدیثوں پر ہے۔

اس سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ امام محمد بن حسن شیبانی کے نزدیک بھی تہجد اور تراویح ایک ہی نماز ہے اور وہ وتر سمیت گیارہ رکعت ہی پڑھتے تھے ورنہ وہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی حدیث جو صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مسند احمد، سنن بیہقی، محمد بن نصر مروزی کی قیام اللیل، موطأ امام مالک اور موطأ امام محمد بن حسن کے حوالہ سے دلیل نمبر 1 کے تحت سب سے پہلے ہم نے ذکر کی ہے وہ اسے اس باب میں نہ لاتے بلکہ صلاة الليل میں ہی لاتے ورنہ اس کے انکاری حنفی بتائیں کہ قیام اللیل سے ان کی کیا مراد ہے؟ اور قیام رمضان سے کیا مراد ہے؟ اور پھر علیحدہ تراویح کا مسئلہ انہوں نے کس باب کے تحت ذکر کیا ہے؟

شہادت نمبر 3:

اسی کتاب مؤطا امام محمد پر التعلیق الممجد کے نام سے مولانا عبد الحئی لکھنوی حنفی نے باب قیام شہر رمضان پر حاشیہ نمبر 9 یعنی نمبر 10 کا نشان لگا کر لکھا ہے:

ويسمى التراويح جمع ترويحة لانهم اول ما اجتمعوا عليها كانوا يستريحون بين كل تسليمتين-

یعنی اسی شہر رمضان یا تہجد کا نام ہی تراویح ہے جو ترویحہ کی جمع ہے اس لئے کہ وہ (مسلمان) جب پہلے اس پر جمع ہوئے تو ہر دو سلاموں کے درمیان استراحت کرتے تھے۔

شہادت نمبر 4:

مولانا احمد علی سہارن پوری صحیح بخاری کے حاشیہ پر گیارہ رکعت مع الوتر اور بیس رکعت تراویح کی بحث کرنے کے بعد بطور خلاصہ بیان کرتے ہیں:

فتحصل من هذا كله ان قيام رمضان سنته احدى عشرة ركعة بالوتر فى جماعته فعله عليه السلام وتركه لعذر- صحیح بخاری ج 1 ص 154۔ حاشیہ نمبر 3۔ ط۔ مکتبہ رشیدیہ دہلی۔

ان تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ قیام رمضان (تراویح) جماعت کے ساتھ وتر سمیت سنت تو گیارہ رکعت ہی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمایا اور ایک عذر یعنی جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی فرضیت کے خدشہ سے اسے جماعت کے ساتھ ادا کرنے کو چھوڑ دیا۔

شہادت نمبر 5:

اسی طرح ملا علی قاری حنفی کی مرقاة شرح مشکوة کے حوالہ سے مشکوة مطبوعہ مکتبہ رحیمیہ دیوبند کے حاشیہ نمبر 5، ص115 پر گیارہ رکعت مع الوتر والی اور اس سے زیادہ رکعات والی تمام روایات پر بحث کرنے کے بعد خلاصہ یوں مذکور ہے:

فتحصل من هذا كله أن التراويح في الأصل إحدى عشر بالوتر في جماعة فعله ﷺ ثم تركه لعذر۔

ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ تراویح اصل میں وتر سمیت گیارہ رکعت ہی ہے جو رسول اللہ  نے جماعت کے ساتھ ادا فرمائی تھی۔ پھر اس تراویح کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا ایک عذر کے سبب چھوڑ دیا یعنی جماعت کی فرضیت کے خوف سے اس کی جماعت کے ساتھ ادائیگی چھوڑ دی۔

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ یہ پانچ شہادتیں مختصراً ان کے ہی بزرگوں کی بیان کی ہیں جن سے اظہر من الشمس ہو گیا ہے کہ تراویح، تہجد، قیام شهر رمضان اور صلاة الليل وغیرہ ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔ اب بتائیں جھوٹا کون؟ احناف کے یہ مذکورہ بالا بزرگ یا موجودہ حنفی جو کہتے ہیں کہ تہجد اور تراویح الگ الگ دو نمازیں ہیں ایک نہیں؟

کیا سارا رمضان تراویح پڑھنا غیر مسنون ہے؟ 

بعض حنفی بھائی کہتے ہیں جب نبی نے صرف تین راتیں تراویح کی جماعت کروائی تھی تو پھر اہل حدیث حضرات سارا رمضان تراویح جماعت کے ساتھ کیوں پڑھتے ہیں؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی  نے ایک خدشہ کے سبب تراویح کی جماعت ترک کی تھی وہ سبب تھا فرضیت کا اندیشہ۔ کیونکہ اس وقت وحی کا نزول جاری تھا جماعت کے ساتھ اس کی ادائیگی کا خطرہ تھا جیسا کہ آپ  کے فرمان سے واضح ہے کہ اس نماز کی مسلسل جماعت میں نے اس لئے نہیں کروائی کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے لہذا اے لوگو اسے اپنے گھروں میں پڑھ لیا کرو کیونکہ تمہارا اپنے گھروں میں ادا کرنا مسجد میں ادا کرنے سے بہتر ہے۔ (بخاری، مسلم) اس فرمان رسول  سے واضح ہوا کہ سارا رمضان جماعت کے ساتھ نماز تراویح مساجد میں پڑھنی جائز ہے اگرچہ گھروں میں اسے پڑھنا افضل ہے۔

کیا حرمین شریفین میں بیس رکعات تراویح ادا کی جاتی ہیں؟ 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ حرمین شریفین میں بیس تراویح پڑھائی جاتی ہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دور سے امت کا مسلسل عمل یہی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ سنت سمجھ کر بیس رکعت تراویح ادا نہیں کرتے بلکہ عام نفل سمجھ کر پڑھتے پڑھاتے ہیں رمضان اور حرمین کی فضیلت کی وجہ سے۔

دوسری بات یہ ہے کہ وہاں ایک ہی امام بیس رکعت نہیں پڑھاتا بلکہ باری باری دو امام پڑھاتے ہیں تو اسی طرح عام نفل سمجھ کر کوئی بیس رکعت یا چالیس رکعت یا اس سے بھی زیادہ پڑھے تو اس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف تو صرف سنت اور عدم سنت کے لحاظ سے ہے۔ وتر سمیت تیئیس رکعت کو سنت کہتے ہیں جب کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر صریح بہتان ہے کیونکہ آپ  کا اکثر عمل وتر سمیت گیارہ رکعت ہی تھا اور کبھی آپ  وتر سمیت تیرہ رکعت بھی ادا فرماتے تھے لیکن اس سے زیادہ آپ  کا عمل قطعاً ثابت نہیں ہے نیز اگر حرمین شریفین والے بیس رکعت پڑھتے ہیں تو وہ آمین بالجهر اور عند الرکوع رفع یدین بھی تو کرتے ہیں؟ تو پھر یہاں کے حنفی یہ دونوں کام کیوں نہیں کرتے؟ یعنی آمین بالجهر اور عند الرکوع رفع یدین؟ بلکہ یہ حنفی ان دونوں عملوں سے چڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔

قارئینِ کرام! حق آپ کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلکی گروہ بندیوں، آباء و اجداد کی اندھی تقلید اور تعصب کے بتوں کو پاش پاش کر کے خالص عدل اور ایمانداری کے ساتھ سنتِ نبوی  کو اپنائیں۔ یاد رکھیں کہ سنتِ رسول  سے اختلاف درحقیقت اللہ کے رسول  کے حکم سے سرتابی ہے، اور اللہ کے رسول  کی مخالفت کا انجام سوائے جہنم کی آگ کے اور کچھ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی عبادات کو ان من گھڑت قصوں اور ضعیف روایات سے پاک کریں جو دین کی اصل روح کو مسخ کر رہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام جیسی سنت کی متابعت عطا فرمائے، کیونکہ اللہ نے خود فرمایا کہ ایسے ایمان لاو جیسے میرے نبی کے صحابہ ایمان لائے اور ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس پر عمل کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

ربنا تقبل منا انک انت السميع العليم، وتب علينا انک انت التواب الرحيم۔ وما علينا الا البلاغ المبين والھداية بيد اللہ المتين۔